بابو منکر کے پاس کچھ پیسے آئے تو کاروبار کرنی کی سوجھی ! سرمایہ زیادہ بھی نہ تھا اور نہ کم تھا دوستوں سے مشورے کے بعد طے ہوا کہ سپر مارکیٹ میں کریانے کی دوکان کھول لی جائے اور بنیادی ضروریات زندگی کو ابھی دوکان میں ترجیح دی جائے ! بابو منکر نے چند بنیادی ضروریات زندگی آٹا ، گھی ، ڈبے والا دودھ ، دالیں وغیرہ رکھ کر کام شروع کردیا، مارکیٹ میں کچھ عرصہ بیٹھے تو محسوس ہوا کہ لوگ موبائل کارڈز کا بھی پوچھنے آتے ہیں موبائل کارڈز کے سپلائرز سے بات کی اس نے بخوشی کارڈز رکھ دیئے کہ بیچ کر پیسے دیتے رہیں ! کچھ عرصے بعد بابو منکر کو علم ہوا کہ سامنے والی دوکان میں زیادہ بھیڑ کا سبب یہ ہے کہ اس نے بچوں کے پیمپرز بھی رکھے ہوئے ہیں ۔ بابو منکر فورا جا کر پیمپرز لے آئے ! ساتھ والی دوکان بھی کریانے ہی کی تھی لیکن وہ چیزیں ان سے مہنگے داموں بیچتا پھر بھی لوگ خریدتے ، بابو منکر کے منکر ذھن نے فورا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ ساتھ والی دوکان بہت لش پش ہے ! چاروں طرف شیشے لگے ہوئے ہیں اور سلیقے سے ریک بنے ہوئے ہیں بابو منکر کو ٹینشن ہوگئی فورا ادھر ادھر سے پکڑ کر پیسوں کا انتظام کیا اور اپنی دوکان کو لش پش کرلیا
منگل، 22 اکتوبر، 2013
جمعہ، 11 اکتوبر، 2013
معرکہ کلیسا و الحاد !
باب 1
تثلیث۔
"باپ خدا ہے ، بیٹا خدا ہے ،روح القدس بھی خدا ہے ۔تین پر بھی وہ تین خدا نہیں ہیں بلکہ ایک خدا ہے "(برٹانیکا مطبوعہ 1960 جلد 22)
باپ ،بیٹااور روح القدس مل کر ایک خدائی وحدت تیار کرتے ہیں جو اپنی ماہیت اور حقیقت کے اعتبار سے ایک اور ناقابل تقسیم ہیں اس وجہ سے وہ تین نہیں ایک خدا ہیں (سینٹ آگسٹائن،On the Trinty)
دنیا کا سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ خدا تین میں ایک کیسے ہے یا ایک میں تین کیسے (نطشے)
"دنیا میں ایک وہ بھی وقت تھا کہ جب بیٹا نہ تھا ،صرف باپ تھا ،باپ نے بیٹے کو تخلیق کیا ،پیدا نہیں کیا ، لیکن یہ تخلیق اس نے اپنے جوہر سے کی اور پھر اسے سے بیٹے سے سب کچھ خلق ہوا۔باپ ازل سے ہے بیٹا حادث ہے" ۔
آریوس کا دعوی چند لفظی و حتمی تھا،لیکن یہ عیسایئت کی پوری بنیاد ڈھانے کے مترادف تھا۔ آریوس اس عقیدے کا بانی نہ تھا پال آف سموسٹا اور لوسین مسیح کے خدا کا جسمانی بیٹا ہونے کا اور اس کے قدیم ہونے کا پہلے انکار کرچکے تھے ، لیکن آریوس نے اس انکار کو نیا رنگ و زوردار انداز دے دیا تھا،عیسائی دنیا جو کہ مسیح کو خدا میں سے خدا ماننے پر مصر تھی بھلا اس عقیدے کو کیوں برداشت کرسکتی تھی ! یہ عقیدہ مسیح کے خدا ہونے کا سیدھا سیدھا انکار تھا
منگل، 1 اکتوبر، 2013
جنسی جرائم، پابندی یا آزادی!
ہماری قوم بھی عجب ہے ہر جنون کو چھوڑ کر "جنسی جنون" کے پیچھے لگ جاتی ہے ۔ بچیوں و بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی حملے اس بات کے مصداق بھی ہیں کہ اس پر توجہ دی جائے۔ لیکن ہر بار کی طرح امید یہی رکھیے کہ کچھ عرصہ کےبحث و مباحثے کے بعد جس میں اسلامی ذھن و فکر رکھنے والے بندے مغربی مظاہر کو خوب رگڑیں گئیں اور فلموں ، گانوں ، فحش ویب سائٹسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کا رونا روئیں گئیں یا سکولوں و کالجوں میں مخلوط طریق تعلیم کو نشانہ بنائیں گئیں اور جوابا سیکولر و لبرل گدھے جن کا "روزگار" ان سے وابستہ ہے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اور سخت ترین قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے مساجد یا مدارس میں ہونے والے کسی ایسے ہی گھناونے جرم کو کو منظر عام پر لائیں گئیں ،یا اس بات کو دلیل بنائیں گئیں کہ جن ممالک میں اسلامی نظام نافذ ہے کیا وہاں کوئی ایسا جرم نہیں ہوتا ! اور ماضی قریب یا حال سے کوئی مثال بھی لے آئیں گئیں ۔ ان گدھوں کی اس ساری مسیحائی کا بنیادی مقصد و پیغام ایک ہی ہوگا کہ "بجائے پابندی لگانے کے آزادی دے دو"۔ مادر پدر آزادی ۔ سیکس کی تعلیم عام کردو ۔ناجائز تعلقات پر سے پابندی ہٹا لو ، گرل فرینڈ ، بوائے فرینڈ کے رشتے کو تقدس کا درجہ دے دو۔ یہ معاشرتی دباو کی وجہ سے اسے زبان سے ادا کریں یا نہ کریں ۔ ان کی ہر بات کا یہی مطلب ہوگا۔
اور "پابندی و آزادی" کے اس کھیل میں کچھ ہی عرصہ بعد میڈیا کے ہاتھ میں کوئی نیا کھیل آجائے گا جرائم اسی طرح ہوتے رہیں گئیں ، سنبلیں اسی طرح لٹتی رہی گئیں لیکن بس ان پر یہ شوروغوغا بند ہوجائے گا!۔
ہفتہ، 28 ستمبر، 2013
شام میں نصیریوں کا عروج !
نصیری ایک ملحد فرقہ ہے جو کہ شام ،ترکی و عراق کے کچھ علاقوں میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے عقائد کیا ہیں یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ۔ لیکن یہ بات ابھی بھی بہت سے لوگوں کےلیے دلچسپی کا باعث ہوسکتی ہے کہ آخر اس مکروہ ترین فرقے کو شام جیسی مقدس سرزمین پر عروج کیسے حاصل ہوا۔یہ مضمون بنیادی طور پر اسی موضوع سے متعلقہ ہے ۔موجودہ حالات و واقعات میں اور خاص طور پر ملک شام میں اہل سنۃ پر ڈھائے جانے والا انسانیت سوز ظلم اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہم تاریخ کے دریچوں میں پھر سے اتریں اور ان کرداروں و واقعات کو دوبارہ زیر بحث لائیں جو کہ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے زمہ دار ہیں ۔ اور تاریخ کے پنوں سے اس سازش کو سمجھنے کی کوشش کریں جو کہ روافض و مغرب نے مل کر امت مسلمہ کے ارد گرد بنی ہے
بدھ، 25 ستمبر، 2013
جہاد النکاح! رافضی افسانہ یا حقیقت
"انتیس دسمبر 2012 کو لبنان کے ٹی وی سٹیشن "الجدید" سے سعودیہ کے مشہور عالم شیخ محمد العریفی کے حوالے سے ایک خبر سامنے آئی ۔ جس کے مطابق انہوں نے شام میں مجاہدین کی جنسی تسکین کے لیے "جہاد النکاح" کو درست قرار دیا اور اس پر حوصلہ افزائی کی۔ گوکہ اس چینل نے اس فتوی کا کوئی ثبوت پیش نہ کیا تھا ۔ لیکن یہودی و رافضی میڈیا اس خبر کو لے اڑا ،اور لبرلز و سیکولرز کو بھی اسلام کو بدنام کرنے کا ایک موقع ہاتھ لگ گیا ۔ ٹوئٹرپر مبینہ طور پر شامی مزاحمت کے مخالف ایک رافضی یوزر نے اس خبر کا لنک بمعہ انگلش ترجمہ شائع کیا اور یوں یہ مغربی میڈیا کے ہاتھ لگا۔شیخ محمد العریفی بشاری اقتدار کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم عمل ہیں اور خلیج وسطی کے مسلمانوں کو شامی جہاد کی مدد کے لیے اکساتے رہتے ہیں ۔صرف ٹویٹر پر ان کو فالو کرنے والوں کی تعداد 35 لاکھ سے زائد ہے اور ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ لوگ ان کو فیس بک پر فالو کرتے ہیں ۔جنوری 2012 میں ان کی شامی جہاد کے بارے میں ایک ویڈیو کو 11 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا تھا۔
اتوار، 22 ستمبر، 2013
شام میں برسرپیکار غیرملکی رافضی گروہ !
عظیم صفوی سلطنت کے خواب کی بانی" مملکت رافضیہ ایران "نے عراق ، ایران جنگ کے دوران ہی سنی سرزمینوں پر ایسے گروھوں کی تشکیل کرنی شروع کردی جو کہ ان علاقوں میں بوقت ضرورت اس کے فوجی مقاصد کے راستے میں حائل مشکلات کو ہٹاسکیں اور عظیم صفوی سلطنت کا خواب پورا کرسکیں ۔ لبنانی سرزمین پر حزب اللہ کا قیام اور ایران ،عراق جنگ کے دوران البدر بریگیڈ اسی کا شناخاسانہ تھا۔ ان گروہوں کی تشکیل و فوجی تربیت ایران میں ہوئی ۔ان کے زیادہ تر ممبران کا تعلق مقامی علاقوں سے ہوتا تھا اور ایرانی انقلابی گارڈ ان کو فوجی تربیت کے عمل سے گزارتی ۔ ایران کی پالیسی اس معاملے میں بڑی واضح تھی ۔ "ایرانی ہر جگہ بھیجنے کی ضرورت نہیں جہاں بھی کوئی شیعہ عقیدے کو ماننے والا ہے اس کو مظبوط کرو" ۔ سختی کے دور میں یہ گروہ رافضی ایران کے سایہ عاطفت میں پناہ پکڑتے اور آسانی میسر ہوتے ہی دوبارہ سرگرم عمل ہوجاتے ۔ رافضی سلطنت نے صرف ان گروہوں کو ہی جنم نہیں دیا بلکہ خطے میں موجود ہر اس عنصر کی قوت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جو کہ شیعیت سے اپنے آپ کو منسوب کرتا ہو۔ رافضی سلطنت کی اس پالیسی نے مشرق وسطی میں عظیم رافضی جنگجو گروہوں کو جنم دیا۔ جو کہ وقت آنے پر سنی خطوں کے خلاف استعمال کیے گئے ۔ ایک اندازے کے مطابق صرف حزب اللہ سے منسلک جنگجووں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے ۔
شامی جہاد کے شروع ہوتے ہی شام سے شبیحہ نامی گروہ کی خبریں سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں جو کہ ایک گمان کے مطابق مقامی نصیریوں و حزب اللہ کے غنڈوں پر مشتمل ایک گروہ تھا جس کے مظالم کی داستانیں شامی عوام کے اندر زبان زد خاص و عام تھیں ۔لیکن شامی مزاحمت ان مظالم سے دبائی نہ جاسکی اور جلد ہی شامی فوج میں بھی بڑے پیمانے پر بغاوت پھوٹ پڑٰی اور باغی فوجی جن کی اکثریت کا تعلق سنیوں سے تھا فوج چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔ ان حالات نے شامی فوج کی عددی اکثریت اور اس کی فعالیت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ وہ آہستہ آہستہ مختلف محاذوں پر مطلوبہ قوت کھونے لگی ۔اور محاذ جنگ تیزی سے اس کے ہاتھوں سے نکلتے چلے گئے ۔ ایرانی رافضی سلطنت کو یہ قابل قبول نہ تھا ۔ اس انقلاب کا چہرہ ابھی تک مذھبی نہ تھا بلکہ بشار جیسے ڈکیٹٹڑ سے چھٹکارے کی کوشش۔ لیکن رافضی میڈیا نے جلد ہی اس کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا ۔ اور تحریک آزادی کو خارجیوں و تکفیریوں کا لقب۔ رافضی سلطنت اس سے دوہرا فائدہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔ ایک تو اپنے عوام کو یہ یقین دہانی کہ یہ تحریک صرف بشار کو ہٹانے کے لیے نہیں ہے بلکہ شیعہ مذھب پر سیدھا حملہ ہے ۔ اور دوسری طرف مغرب کو یہ پیغام کہ جن سے ہم لڑ رہے
ہیں وہ تمہارے بھی دشمن ہیں ۔
ہیں وہ تمہارے بھی دشمن ہیں ۔
جمعرات، 19 ستمبر، 2013
مغرب کی شام پالیسی !
شام میں مغرب کی پالیسی
شام میں مغربی طاقتوں کی پالیسی کیا ہے ، کیا مغرب واقعی ہی بشار مخالف ہے ،شام میں اسے کے امدادی عناصر کونسے ہیں ، کیا واقعی ہی مغرب شامی مجاہدین کی مدد کررہا ہے ، ان سوالات نے بہت سی مباحث کو جنم دیا ہے اور فریقین مخالف نے اپنی اپنی پروپیگنڈہ مہم میں اس کو استعمال کیا ہے ۔ رافضی فریق نے مسلمان ممالک میں پھیلی ہوئی امریکی نفرت کو اس جنگ کو ایک علاقائی یا مغربی حمایت یافتہ فساد کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ اس کا اصل چہرہ آشکار نہ ہوسکے ۔ دوسری طرف شامی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ مغرب ان کی خاطر خواہ مدد نہیں کررہا جیسا
کہ ان کو امید تھی ۔
کہ ان کو امید تھی ۔
منگل، 17 ستمبر، 2013
اسلامی جمہوریت!
"
ہمارے ایک دوست تھے ،ذھن اسلامی ، چہرہ مہرہ غیراسلامی ، ہم ذھن پر ہی شکر ادا کرتے ،موصوف کچھ عرصہ کے لیے ولایت تشریف لے گئے جب واپسی ہوئی تو بغل میں ایک میم تھیں! موصوف کا تعلق روایتی گھرانے سے تھا ،اس لیے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ جناب میم لے کر آئے ہیں ،رشتے داروں نے گوری کے دیدار کے لیے دوردراز سے ان کے گھر تک کا سفر کیا ، عورتیں سروں پر ڈوپٹہ لیتی ہوئی چوری چوری میم صاحبہ کو دیکھتی اور ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتیں کہ کہیں گوری میلی نہ ہوجائے ، دولہا کی بہنیں فخریہ لہجے میں سہلیوں کو بتاتی پھرتیں کہ بھیا انگلینڈ سے میم لائے ہیں، بچے تو اس کمرے سے نکلتے ہی نہ تھے جہاں پر میم تھی اماں کو انگلش وغیرہ تو نہ آتی تھی لیکن پھر بھی روایتا چادر اور سوٹ گوری کو دیا ، بلائیں لیتی لیتی رہ گئیں کہ پتہ نہیں میم کو کیسا لگے ۔ ہاں بیٹے کو جی بھر کر دعائیں دیتی رہیں ، صرف ابا جی تھے جنہوں نے بیٹا جی سے دریافت کیا ،مسلمان کیا ہے ؟ بیٹا جی نے جواب دیا جی اس نے کلمہ پڑھا ہوا
ہے ، اور اباجی مطمئن ہوگئے !
ہے ، اور اباجی مطمئن ہوگئے !
ہفتہ، 14 ستمبر، 2013
فقہ الواقع - حالات و واقعات کا علم
علماء دین و داعیان اکرام کے لیے اپنے کے حالات و واقعات کا فہم کیوں ضروری ہے ۔
فضیلۃ الشیخ - ڈاکٹر ناصر بن سیلمان العمر
ترجمہ و تلخیص ۔ محمد زکریا الزکی
علماء پر اپنے دور کے حالات و واقعات کا علم بے حد ضروری ہے تاکہ وہ ان پر شرعی حکم لگا سکے ۔ اصول فقہ کے دو اہم اصول ہیں ۔
(ا)
مَا لَا یَتِمُّ الوَاجِبُ اِلَّابِہ فَہُوَ وَاجِب ٌ جس چیز کے بغیر کوئی شرعی واجب ادا نہ ہوسکتا ہو وہ بھی واجب ہے ۔ علمائے دین پر اپنے دور کے حالات کا شرعی حکم تلاش کرنا واجب ہے ۔ اور یہ شرعی واجب اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتاجب تک وہ اپنے دور کے حالات کا صحیح فہم حاصل نہ کرلیں ۔ چنانچہ حالات و واقعات کی سوجھ بوجھ بھی علمائے دین پر واجب ہے ۔
(٢)
اصول فقہ کا دوسرا اصول ہے ۔ اَلْحُکْمُ عَلٰی الشَّیْءِ فَرْعٌ عَنْ تَصَوُّرِہ کسی چیز پر لگایا گیا حکم ، اس چیز کے صحیح یا غلط تصورپر مبنی ہوتا ہے۔ اگر اس چیز کا فہم و تصور غلط ہے تو شرعی حکم بھی غلط ہوگا ۔اگر اس چیز کا فہم و تصور درست ہے تو شرعی حکم بھی درست ہوگا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حالات و واقعات کا صحیح فہم ہی درحقیقت صحیح فتوے اور درست راہنمائی کی بنیاد ہے ۔
!فقہ الواقع کی تعریف
ہُوَ عِلْمٌ یَبْحَثُ فِیْ فِقْہِ الْاَحْوَالِ الْمُعَاصَرَۃِ مِنَ الْعَوَامِلِ المُؤَثِّرَۃِفِیْ الْمُجْتَمَعَاتِ وَ الْقُویٰ الْمُہَیْمَنَۃِ عَلٰی الْدُوَلِ وَ الْاَفْکَارِ الْمُوَجِّہَۃِلِزَعْزَعَۃِ الْعَقِیْدَۃِ وَ الْسُّبُلِ الْمَشْرُوْعَۃِ لِحِمَایَۃِ الْاُمَّۃِوَرَقِیِّہَافِی الْحَاضِرِ وَ الْمُسْتَقْبِلِ
جمعرات، 12 ستمبر، 2013
القاعدہ کا فتح کا بیس سالہ منصوبہ !
"
"
سن 2005 کے اختتام پر ایک اردنی صحافی فواد حسین کی ایک عربی کتاب منظر عام پر آئی جس کو عربی روزنامہ القدس عربی نے چھاپا - کتاب کا نام تھا
الزرقاوی ۔ القاعدہ کی دوسری نسل
"
Al-Zarqawi . Al-Qaeda Second Generation
اپنی طباعت کے موقع پر یہ کتاب کوئی خاص اہمیت حاصل نہ کرسکی گوکہ فواد حسین معصب الزرقاوی کے ساتھ اردنی جیل میں کچھ وقت گزار چکے تھے ۔ اور اپنے دعوی کے مطابق القاعدہ کی لیڈر شپ سے رابطہ رکھتے تھے ۔ لیکن عرب بہاریہ کے بعد ایک دم یہ کتاب مغربی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ۔ خاص طور پر جس بات نے ان کی توجہ مرکوز کی وہ "القاعدہ کا فتح کا بیس سالہ منصوبہ" تھا جس کا دعوی جہادی ذرائع سے اس کتاب میں کیا گیا ۔ اس کتاب کے یہ مندرجات حیران کن طور پر کچھ ہی سالوں میں سچے ثابت ہوئے ۔ جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتے
ہیں ۔ مصنف نے القاعدہ کے منصوبے کو سات حصوں یا مراحل میں تقسیم کیا ہے
"
"
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
