پیر، 28 اپریل، 2014

شیخ ابوقتادہ فلسطینی فک اللہ اسرہ کا الدولۃ کے خوارج ہونے پر فتوی !

  بسم اللہ الرحمن الرحیم

  مجاہدین اور محبان جہاد کے نام ایک پیغام
شیخ ابوقتادہ فلسطینی فک اللہ اسرہ کی جانب سے

 یہ خط میں شدید دکھ کیساتھ لکھ رہا ہوں اور اگر یہ اللہ کیساتھ اس عہد کے مطابق نہ ہوتا جوکے اس نے اپنی مخلوق سے لیا تھا تو میں یہ خط کبھی نہ لکھتا، ۔اللہ گواہ ہیں کہ میں نے اس خط کو جاری نہ کرنے کے لیے اپنے آپ سے کتنی سخت جدوجہد کی ہے لیکن اس بات کے خوف نے کہ کہیں میں وہ سچ تو نہیں چھپا رہا جو کے میں جانتا ہوں میں اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکا۔میں نے خاص حلقہ احباب میں اور عوامی سطح پر ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اہل جہاد پر سے کسی بھی نقصان کو ہٹاوں تاہم وہ لوگ جو کے جھوٹ ،شیطان اور گمراہی کا شکار ہوچکے ۔انکا عظیم مقصد صرف جہاد کو تباہ کرنا ہے اور اسکی بھلائی انہیں مقصود نہیں ہے ۔ ان الفاظ کا مخاطب "الدولۃ الاسلامیہ فی العراق کی قیادت اور شام میں انکی شاخ ہے "۔ مجھ اسپر مکمل شرح صدر حاصل ہوچکی جسمیں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ گروہ (الدولۃ الاسلامیہ)بمعہ اسکی عسکری و اسلامی قیادت کے "جہنم کے کتے" ہیں اور انکے اعمال اسپر گواہی دیتے ہیں ،اور وہ رسول اللہ کی اس تعریف پر سب سے زیادہ پورا اترتے ہیں جو کے احادیث میں وارد ہوئی ہے ۔ "وہ مسلمانوں کو ماریں گئیں اور کافروں کو چھوڑ دیں گئیں ۔اللہ کی قسم اگر میں انہیں پاوں تو قوم عاد کی طرح قتل کروں "۔ میں انکے بدترین اعمال کیوجہ سے اس فتوی کو دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا ۔ میں نے انہیں سمجھانے کی ہرممکن کوشش کی حتی کے انہوں نے نصحیت ،سچائی و رہنمائی کو ماننے سے انکار کردیا ۔میرا یہ خطاب ان لوگوں کیساتھ ہے جو کے اپنے آپ کو ان سے منسوب کرتے ہیں اور جنکے دلوں میں رتی بھر بھی سنت ، دین یا اللہ کا خوف ہے ،جو مسلمانوں کا خون بہانے سے ڈرتے ہیں کہ یہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ کے رسول کا فرمان ہے ۔ رسول اللہ کی بیان کردہ تعریف کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ ہم ایسے لوگوں کے متعلق (خارجی کے علاوہ)کوئی اور نام تلاش کریں ،۔

بعض لوگ یہ اعتراض کریں گئیں کہ خوارج کی تعریف ان کے عقیدے پر پورا نہیں اترتی کیونکہ خوارج یہ یقین کرتے تھے کہ جو بھی بندہ کبیرہ گناہ کرتا ہے وہ مرتد ہوتا ہے لیکن رسول اللہ کی حدیث و تعریف ہمیں انکے رویئے کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے بغیر اس بحث میں جائے کہ انکا عقیدہ کیا تھا ۔ انکے بڑوں کا رویہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بھی ایسا ہی تھا جیسا کے آج انکا ہے ،اسلیے کسی کوبھی رسول اللہ کے فتوی کے علاوہ بات نہیں کرنی چاہیے ۔ان لوگوں کی مثال ایسی ہے ہے جو کے ایمان والوں کیساتھ لڑائی کرتے ہیں جیسے کے جبھۃ النصرہ۔(اللہ انکے کمانداروںوعلماء کی حفاظت فرمائے آمین )۔یہ وہ ہیں جوحکیم الامت شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ جیسے جہاد کے رہنماوں پر پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا منہج بدل لیا ہے ،یہ وہ ہیں جو کے الفاظ سے دھوکہ دیتے ہیں ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ جہاد کے راستے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے نہ ہی یہ اہل جہاد کے عقیدے کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی انکی حکمت عملی کو ۔انکا یہ دعوی کتنا عجیب ہے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللہ کاعقیدہ شیخ اسامہ بن لادنؒ کے عقیدے سے ہٹ کر ہے !۔ماسوا انکے جو کے انکے ہی جیسے ہیں ان کی بات کوئی نہیں سنتا جو ان لوگوں (مجاہدین رہنما)کی تاریخ کو نہیں جانتے اور انکے کارناموں کی انہیں کچھ خبر نہیں ہے ۔ یہ دوسروں کو اپنے الفاظ و اصطلاحات سے گمراہ ہونے کا الزام دیتے ہیں حالانکہ یہ خود اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں گمراہ ، جھوٹے و متکبر کہہ کر پکارا جائے !گو کے ان کے الزامات کی اب میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں ہے اور یہ مجھے زیادہ متاثر نہیں کرتے لیکن انکے جرائم ہمارے سر پر یہ زمہ داری ڈالتے ہیں کہ ہم ان سے اظہار برآت کریں کیونکہ یہ رسول اللہ کی بتائی گئی خوارج کی تعریف پر پورا اترتے ہیں مجھے اچھی طرح ادراک ہے کہ جاہل بہت ساری باتیں کریں گئیں جن میں سے کم از کم یہ بات ہوگی کہ "یہ بندہ جیل میں ہے اس لیے کچھ نہیں جانتا"۔ میں جوابا کہتا ہوں کہ اللہ گواہ ہیں کہ میں ان سے زیادہ جانتا ہوں ۔مسئلہ ہرگز یہ نہیں ہے کہ مجھے معلومات نہیں مل رہیں بلکہ دراصل یہ ہے کہ میں ان معلومات میں سے بہت کم ہی افشا کرسکتا ہوں ،میں اس مقام پر نہیں ہوں کہ میں ہرروز دوسروں کی طرح ایک نیا بیان جاری کرسکوں اور یہی وجہ ہے کہ میدان ان جیسے جہلاء کے لیے خالی پڑا ہے جو کے الدولۃ کے ساتھ یوں چمٹے ہوئے ہیں جیسے ایک جاہل اپنے قبیلے کیساتھ جہالت کیوجہ سے چمٹا ہوتا ہے ۔میرا یہ خطاب صرف ان لوگوں تک ہی محدود نہیں ہے اگر دین میں کوئی بدعت پھیلتی ہے تو اسکی مثال کتے کی بیماری کی طرح ہے جو کے ہرروز اسے اندر باہر سے کمزور و اندھا بنارہی ہوتی ہے ۔ میں اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں کہ معاملات اس حد تک پہنچے اور جہادی صفوف کی صفائی ہوئی اور اہل جہاد و اہل بدعت میں فرق واضح ہوگیا۔ میں مجاہدین شام کے دکھ کو محسوس کرسکتا ہوں جو کے انہیں ان لوگوں کے جرائم کی وجہ سے پہنچا ہے ،جو کبھی انکے ساتھ ملکر غداروں سے لڑرہے تھے لیکن انکے جنون و انتہا پسندی نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ ساتھیوں کا خون بھی حلال کربیٹھے ہیں !۔ 
میں ان تمام مجاہدین کو جو ان سے محبت رکھتے ہیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ رسول اللہ کی حدیث کو غور سے پڑھیں اور سمجھیں "کہ میری امت میں ایک گروہ بقیہ رہے گا"۔ یہ اسلیے کے وہ سمجھیں کہ یہ ایک گروہ (مجاہدین)ہمیشہ رہنے والا ہےجسکو یہ (الدولۃ کے خوارج )جہادی رہنماوں ،انکے کمانداروں اور انکو جنہوں نے جہاد کا پودا اپنے خون سے سینچا ہے اور اپنے خاندانوں و زندگیوں کی اسکے لیے قربانی دی ہے ،مار کر توڑنا چاہتے ہیں !!۔اور ایسا کرنے کے بعد یہ خوفناک بیانات جاری کرتے ہیں !۔میں اس لیے جبھۃ النصرہ میں علم سے محبت رکھنے والوں اور اسکے طالبین ،ڈاکٹر سامی العریدی حفظہ اللہ ، ابوماریہ العراقی حفظہ اللہ اور عبداللہ الشامی حفظہ اللہ اور انکے ساتھ ساتھ ڈاکٹر المحسینی کے صبر اور انکی کوششوں کا شکر گزار ہوں جو انہوں نے ان جاہلوں کے پھیلائے ہوئے شبہات کا جواب دینے کے لیے کی ہیں ۔میں یہاں الشام کے سارے اہل علم کا تذکرہ نہیں کرسکتا ۔ شام کا جہاد جہاں بدترین دشمن کے ہاتھوں مصائب کا شکار ہے وہاں ایسے جہلاء کے ہاتھوں بھی مصائب کا شکار ہے جو کے جہاد سے محبت رکھتے ہیں یہ بھی جہاد کو اسی طرح نقصان پہنچا رہے ہیں جیسے کے دشمن پہنچا رہا ہے ۔ایمان دار لوگوں کو انکے جرائم کے مقابلے پر صبر کرنا چاہیے ،اہل علم اور اہل فراست کو اس حدیث پر غور کرنا چاہیے "میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا"۔یہ حدیث نہ خیبر کے یہود سے متعلقہ ہے اور نہ ہی یہ قریش پر منطبق کی جاسکتی ہے حالانکہ وہ رسول اللہ کے سب سے سخت دشمن تھے ،اسکی وجہ یہ ہے کہ ان خوارج کا کتوں کے پاگل پن کی طرح کوئی علاج نہیں کیا جاسکتا اور ان میں سے اگر کوئی ایک بھی زندہ بچ گیا تو وہ امت محمدیہ کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہوگا ۔ اس گروہ خوارج کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے ۔ اگر ان میں سے ایک یا دو بھی زندہ بچ جائیں تو یہ اپنی گمراہی صحراوں میں اور ان جگہوں پر تیزی سے پھیلا دیں گئیں جہاں علم کی کمی ہو جسکا نتیجہ انکے دوبارہ ابھرنے کی میں نکل سکتا ہے ،الدولۃ کا گروہ وہی خوارج کا گروہ ہے جو کے ماضی میں پایا جاتا تھا ،ان دونوں میں رتی بھر بھی فرق نہیں ہے ۔ اگر سوال کرنے والا انکے متعلق فتوی پوچھے یا اسکی دلیل طلب کرے تو اسے اہل جہاد کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔یہ بات ورطہ حیرت میں ڈالنے والی ہے کہ یہ ذلت کی اس انتہا پر پہنچ گئے ہیں کہ انہوں نے اہل جہاد کو بھی اپنا دشمن بنا لیا ہے !انہیں مرتدین کہتے ہیں انکے رہنماوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کے اموال کو حلال سمجھتے ہیں ! ان امور کے بعد شک و شبہ کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ؟ یہ میرا انکے متعلق فتوی ہے اور میں اسکے لیے اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں اور اگر یہ جہاد کے حق میں نہ ہوتا اور مجھے خاموش رہنے میں حکمت محسوس ہوتی تو میں ضرور ایسا ہی کرتا ۔ اللہ گواہ ہے کہ میرا  ان الفاظ کا مقصد صرف نصیحت کرنا ہے اور سنت پر عملدارمد کرنا اور جہلاء کے شر کو رفع کرنا و جہاد کو ان سے پاک کرنا ہے ۔یہ الفاظ میں ایسی جگہ(جیل خانہ) سے کہہ رہا ہوں جہاں سے میں اس فتوی پر اٹھنے والے سوالات کا جواب یا ان اعتراضات کا جواب نہیں دے پاوں گا جو کے اس فتوی سے متعلق اٹھائیں جائیں گئیں ۔زندگی کی نعمت تھوڑی ہے اور اسمیں اللہ ہی کو خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جتنی بھی کوئی کرسکے ۔جو کچھ میں نے اوپر کہا ہے وہی دوسرے علماء کا بھی فرمانا ہے جو کے اسی منہج سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہر کوئی اپنے طریقہ اور تاویلات رکھتا ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرے اور اس بات کی جانب جو کے اللہ کو خوش کرتی ہے اور اسے پسند ہے ۔اللہ تعالی جہاد کو اور مجاہدین کو فتح عظیم سے نوازے ۔ آمین آپکا بھائی
 ابوقتادہ
2014، 28 اپریل


منگل، 15 اپریل، 2014

کیا عالمی جہادی تحریک نے اپنا منہج تبدئیل کرلیا ہے ؟!

مصنف ۔ یوسف المرابطی 
مترجم - وردۃ الاسلام

  بسم اللہ الرحمن الرحیم
 تنظیم القاعدہ کی طرف سے جاری کیا گیا تحریری بیان ((جہادی عمل کا لائحہ کار)) تنظیم کے ہاں اول روز سے مسلم قواعد پر مشتمل ہے یا یہ القاعدہ کا سابقہ غلطیوں سے رجوع ہے؟ القاعدہ کے تحریری بیان پر جو ڈاکٹر الظواہری کی طرف سے دستخط شدہ ہے کئی قسم کے شبہات سامنے آئے جن میں یہ بات بہت اٹھائی جا رہی ہے کہ اس تحریری بیان میں القاعدہ نے اپنی سابقہ غلطیوں سے رجوع کیا ہے یا اصلاح کی ہے  اور یہ کہ 17 نکات پر مشتمل یہ تحریری بیان القاعدہ کی جھاد کے بارے میں نئی حکمت عملی کا بیان ہے جو اس نے جھادی کاروائیوں،اسلامی ممالک کی حکومتوں،مختلف گروہوں سے تعامل اور مسلمان ممالک میں بسنے والے کافروں کے بارے میں اختیار کی ۔ جب کے حقیقت یہ ہے کہ جب سے تنظیم وجود میں آئی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے جھادی عمل کے لیے مستقل لائحہ عمل جاری کیا ہے(جسکی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہورہی ہے )،یہ تحریری بیان تنظیم کی ہر شاخ اس کی تائید کرنے والے ہر گروہ اور اس کے حامیوں کے لیے ایک دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔اس بیان کے اجراء سے قبل حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والوں کو تنظیم کے جھادی موقف کو جاننے کے لیے اس کی تمام ویڈیوز آڈیوز اور انٹرویوز کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ اس بیان میں کوئی نیا موقف نہیں اختیار کیا گیا بلکہ اس کی ہر شق تنظیم القاعدہ کے قیام سے لیکرآج تک اختیار کیے گئے موقف کو ہی واضح کرتی ہے ہم چند نکات کے بارے میں تفصیلی بات کریں گے اور ان نکات کا موازنہ پرانے بیانات سے کریں گے جن کے بارے میں یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ یہ القاعدہ کا رجوع ہیں یا اس طریق کار سے انحراف ہے جسکا یہ دعوی کرتی ہے۔
 حکومتوں کے ساتھ مسلح لڑائی!
 کے بارے میں اس تحریری بیان کی تیسری شق میں کہا گیا کہ" داخلی(مسلم) حکومتوں کے ساتھ قتال نہ کیا جائے الا یہ کہ ہم مجبور کر دیے جائیں یعنی اگر حکومت امریکی طاقت کا حصہ بن رہی ہو جیسا کہ افغانستان میں ہے یا وہ امریکا کی طرف سے مجاھدین سے لڑ رہی ہو جیسا کہ صومال اور جزیرہ عرب میں ہے یا حکومت کو مجاہدین کا وجود برداشت نہ ہو جیسا کہ مغرب اسلامی ، شام اور عراق میں ہے لیکن جتنا ہو سکے ان کے قتال سے بچنے کی کوشش کی جائے۔۔۔اور اگر قتال مجبورا کرنا پڑے تو اس بات کا اظہار کر دیا جائے کہ ہماری ان حکومتوں سے جنگ مسلمانوں کے خلاف لڑی جانے والی صلیبی جنگ سے دفاع کا حصہ ہے"
 یہی بات القاعدہ کے یوم تاسیس سے آج تک تنظیم کے ہاں ایک اصول ہے،تنظیم القاعدہ کا خیال ہے کہ حکومت کے ساتھ قتال کی کوئی ضرورت نہیں ہے تنظیم القاعدہ کے سابق امیر الشیخ اسامہ بن لادن اآڈیو بیان میں فرماتے ہیں بیان کا موضوع ہے
"امریکیوں سے اعلان جنگ جنہوں نے بلاد حرمین پر قبضہ کر رکھا ہے" یہ بیان 7 سال قبل نشر کیا گیا تھا۔
"ان حالات میں اپنی تمام تر قوتیں سب سے بڑے دمشن اسلامی ممالک پر قبضہ کرنے والے سب سے بڑے کافر کے خلاف جھاد پر امت کو ابھارنے اور تیار کرنے پر صرف کرنی چاہیے یہ ایسا دشمن ہے جو دین اور دنیا کو بگاڑ رہا ہے اور یہ دشمن اسرائیل کا حلیف امریکہ ہے جو کہ مکہ مدینہ کو اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہے ،اور مسلمانوں کو یاد دہانی کروانی چاہیے کہ امت مسلمہ کے بیٹوں کے درمیان جنگ و جدال سے اجتناب کریں کیونکہ اس کے نتائج بہت خوفناک ہیں۔"
  اسی بات کی تاکید 2007 مئی میں حسبۃ نیٹ ورک کے ساتھ اوپن ڈسکشن میں شیخ عطیۃ اللہ لیبی نے کی( جو تنظیم القاعدہ کی لجنۃ شرعیہ کے عضو تھے) حسبۃ نیٹ ورک تنظیم القاعدۃ کا ڈیٹا نشر کرنے میں معروف ہے ۔
آپ نے فرمایا:"میرے نزدیک اور اور القاعدہ کو جاننے والے اور 11 ستمبر کے واقعات سے قبل شیخ اسامہ بن لادن کو جاننے والے ہر شیخ کو یہ بات معلوم ہے کہ شیخ سعودی حکومت اور دیگر عرب حکومتوں کے ساتھ ٹکراو نہیں چاہتے تھے یہ ان کے بارے میں معروف اور مشھور بات ہے"
 اسی ملاقات میں انہوں نے یہ بھی کہا،" الشیخ اسامہ جس قدر ممکن ہوسکے ان حکومتوں سے ٹکراو سے بچناچاہتے ہیں اور ان سے ٹکراو میں جلدی کی رائے نہیں رکھتے،بلکہ ہم امریکہ کو ماریں گے جو سب کا سردار ہے،اور اپنی ساری قوتیں اور طاقتیں اس کے خلاف خرچ کریں گے،اور اس کے علاوہ ہم صرف اس کی ان دم چھلی حکومتوں سے ٹکرائیں گے جن سے ٹکرائیں بغیر کوئی چارہ نہیں"
 ڈاکٹر ایمن الظواہری ستمبر 2011 میں ((نصرت کی صبح قریب ہے )) کے عنوان سے جاری کردہ آڈیو بیان میں فرماتے ہیں "امریکا کا پٹھو میڈیا زعم کرتا ہے کہ القاعدہ کا داخلی حکومتوں کے ساتھ مزاحمت کا اسلوب ناکام ثابت ہو گیا ہے اور یہ میڈیا یہ بات بھول جاتا ہے کہ القاعدہ اور زیادہ تر جہادی تنظیمیں ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصہ قبل یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ عمومی داخلی حکومتوں سے مزاحمت ترک کر کے دنیا کے سب سے بڑے مجرم کے خلاف قتال پر اپنی تمام تر قوتیں مرکوز کی جائیں "
مختلف گروہوں اور فرقوں کیساتھ تعامل !
رہی بات مختلف گروہوں اور منحرف فرقوں کے ساتھ تعامل کرنے کی تو چوتھی اور پانچویں شق میں بیان کیا گیا ہے کہ منحرف فرقوں مثلا روافض ،اسماعیلی،قادیانی،صوفیہ وغیرہ سے قتال نہ کیا جائے جب تک کہ وہ اھل سنت سے قتال نہ کریں ،اور اگر وہ اھل سنت سے قتال کریں تو قتال کرنے والے فرقے اور گروہ تک اپنی جوابی کاروائی کو محدود رکھا جائے،اسلامی ممالک میں عیسائیوں سکھوں اور ہندووں کو نقصان نہ پہنچایا جائے،اگر ان کی طرف سے سرکشی اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑے تو ان کی سرکشی اور دشمنی کی حد تک جواب کو محدود رکھا جائے ،اور یہ بات واضح کر دی جائے کہ ہم ان سے قتال کی ابتدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ ہم عالمی کفر کے ساتھ قتال میں مصروف ہیں اور ہم اس بات کے حریص ہیں کہ ان کے ساتھ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد امن و سکون سے رہیں۔۔۔ اس مسئلے پر القاعدہ کی قیادت نے تنبیہ کی ہے کہ مخالف گروہ اگر قتال کی ابتدا نہ کرنے والے ہوں تو ان سے قتال نہ کیا جائے ۔ مدت اجراء سے 6 سال پہلے ہونے والی اوپن ڈسکشن میں شیخ ایمن الظواہری نے شیعوں کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا "شیعہ کی عوام کے بارے میں میرا وہی موقف ہے جو اہل سنت والجماعت کے علماء کا ہے ،کہ انہیں ان کی جہالت پر عذر دیا جائے گا،لیکن ان میں سے جو صلیبیوں کے ساتھ شرکت کریں اور مسلمانوں پر زیادتی کریں تو ان کا حکم اسلام کے شرائع سے باز رہنے والے گروہوں کا حکم ہے لیکن ان کی وہ عوام جو نہ ہی صلیبیوں کے ساتھ تعاون کرے اور نہ مسلمانوں پر زیادتی کرے تو ان کے ساتھ ہم دعوت کی راہ اختیار کرتے ہیں اور ان کے سامنے حقائق کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ،اور ان کے سامنے ہم وہ جرائم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو ان کے بڑے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرتے آئے ہیں"۔
اسی طرح انہوں نے اپنی تبرئہ نامی کتاب میں عیسائیوں سے مخاطب ہو کر کہا جو کہ 2008 میں شائع ہوئی تھی "آپ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں صلیبیوں کی  صف میں کھڑے ہونے سے باز آ جاو خاص طور پر امریکا،اور اس کے عملاء اس کے غلاموں کی صفوں میں بھی نہ کھڑے ہو جن میں سرکردہ حسنی مبارک ہے،ہمارے اور ان کے درمیان شدید معرکہ جاری ہے،اپنے اآپ کو اس معرکہ میں نہ دھکیلو،ہم اآپ کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے"
 اور یہ ابو مصعب الزرقاوی بلاد الرافدین میں القاعدہ کے سابق امیر 2005 میں نشر کی جانے والے اآڈیو بیان میں فرماتے ہیں"ارض رافدین پر مختلف گروہ بستے ہیں ستارہ پرست،یزیدی شیطان کے عبادت گزار،کلدائی اور آشوری،ہم نے ان کی طرف اپنا ہاتھ کبھی برائی کی نیت سے بڑھایا ہے نہ ہی ہم نے ان پر اسلحہ تانا ہے باوجود اس امر کے کہ ان گروہوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ،لیکن ہم پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ گروہ مجاہدین کے خلاف قتال میں صلیبیوں کی مدد کرتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے روافض کی طرح ملعون اور گھٹیا کردار ادا کیا ہے"
بلکہ بلاد رافدین میں تنظیم القاعدہ نے اعلان کیا تھا کہ القاعدہ ان شیعہ گروپوں کو کچھ نقصان نہ ہپہنچائے گی جو قابض امریکا کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے ،جیسا کہ 2005 میں ان کے ایک بیان میں کہا گیا" شیعوں کا ہر وہ گروہ جو تلعفر وغیرہ میں حکومت کا اھل سنت والجماعت پر کیے جانے والے مظالم کا رد کرتا ہے اور کسی بھی صورت میں قابض امریکی فوجیوں کے ساتھ معاونت نہیں کرتا تو وہ مجاھدین کی کاروائیوں سے محفوظ رہے گا اللہ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے"ولا یجر منکم شنان قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ھو اقرب للتقوی"۔۔۔۔جبکہ بعض شیعہ گروپوں نے تلعفر میں ہونے والے قتل عام کا رد کیا ہے اور القاعدہ کو اپنے خاص ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بعض گروہپوں نے اس قتل عام کے سنگین واقعہ میں حصہ نہیں لیا اور بعض گروپوں نے قابض امریکہ کا تعاون کرنے سے انکار کیا ہے جیسا کہ تیار الصدری،خالصی اور حسنی وغیرہ،اس لیے تنظیم القاعدہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان گروپوں کی عوام اور ان کے شعارات کو کچھ نقصان نہ پہنچایا جائے جب تک وہ خود لڑائی شروع کرنے والے نہ ہوں"۔
عوامی مقامات پر حملے کرنا !
 اب بات کرتے ہیں عوامی مقامات یعنی مسجدوں،بازاروں اور رش کے مقامات پر دھماکے کرنے کے بارے میں جہاں دھماکوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ فوت ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے اموال کو شدید نقصانات پہنچتے ہیں اس بارے میں تنظیم القاعدہ نے 8ویں اور 9ویں شق میں بیان کیا کہ"دھماکووں،اغوا کاریوں اور قتل اور مال پر ڈاکے مارنے کے ذریعے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے باز رہا جائے،مسجدوں بازاروں اور رش کے اماکن پر جہاں دشمن عوام کے ساتھ مل جل جاتے ہیں وہاں اپنے دشمنوں کو نشانہ بنانے سے رکا جائے" یہ معاملہ ہمیشہ زیر بحث رہا اور تنظیم القاعدہ کی قیادت ہمیشہ سے ان کاروائیوں کا رد کرتی رہی ہے اور ایسی کاروائیاں کرنے والا کوئی بھی ہو کبھی القاعدہ نے ان کی حمایت نہیں کی اگرچہ وہ اپنے اآپ کو تنظیم سے منسوب ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ 2008 کی گرمیوں میں پاکستانی نیوز چینل جیو نے ابو مصطفی یزید کی ڈرون اٹیک میں شہادت سے قبل ان سے پاکستانی سابق وزیر داخلہ شیرپاو پر مسجد میں حملے کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا" اللہ کا شکر ہے ہم نے اس حادثہ کے بعد بیان جاری کیا ہے جس میں ہم نے سختی سے اس بات کی تردید کی ہے،ہم نے یہ کاروائی نہیں کی نہ ہو ہم اس پر راضی ہیں اور نہ ہی اسے درست سمجھتے ہیں۔جو ہم سے اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے ہم نے ان کے لیے واضح کر دیا ہے کہ اس جیسی کاروائیاں شریعت میں جائز نہیں ہیں اور مجاھدین پر لازم ہے کہ وہ ایسی جگہوں سے اجتناب کریں جہاں عوام اکھٹی ہوتی ہے خاص طور پر مساجد کیوں یہ پاک اور محترم مقامات میں سے ہیں،اور ایسی جگہوں پر کاروائیوں سے بھی اجتناب کیا جائے۔میں کہنا چاہتا ہوں کہ جن کاروائیوں میں مساجد کو نشانہ بنایا جاتا ہے ان کے پیچھے وہ خفیہ ہاتھ ہو سکتا ہے جو مساجد کو بدنام کرنا چاہتا ہے"۔ بلکہ القاعدہ کی طرف سے 2007 میں بھی بیان جاری کیا گیا تھا جس میں ایسی کاروائیوآں کے بارے میں تنظیم کے موقف کو بخوبی واضح کیا گیا تھا،اس بیان میں کہا گیا تھا کہ" ہم تنظیم القاعدہ کے سربراہ واضح کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے نا حق قتل سے بری الذمہ ہیں وہ جہاں کہیں بھی ہوں خصوصا اگر وہ مساجد میں ہوں،چند روز قبل چار سدہ پشاور کی مسجد میں ہونے والے دھماکے سے ہم لا تعلق ہیں نہی ہم نے اس کا حکم دیا نہ ہم اس راضی ہیں ،ہم ایک دفعہ پھر یاد دہانی کرواتے ہیں کہ ہم مساجد بازاروں اور عام مسلمانوں کے رش کے مقامات پر دھماکے نہیں کرتے ہم کتنے ہی شرعی طور پر جائز ٹارگٹ اور کتنے ہی اعمال صرف ان حرمتوں کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے چھوڑ دیے" 2011 میں نشر ہونے والی ویڈیو میں تنظیم القاعدہ کی لجنۃ شرعیہ کے ممبر عطیۃ اللہ اللیبی نے فرمایا"ہم پورے زور کیساتھ  ہر اس کاروائی سے برآت کا اعلان کرتے ہیں جو عام مسلمانوں کے مجمع کو نشانہ بناتی ہے چاہے وہ مسجد میں ہو،بازار میں یا راستوں میں،اور تنظیم القاعدہ کی اعلی قیادت نے بارہا اپنے بیانات اور اپنے سپیکرز کے ذریعے اس بات کو واضح کیا ہے اور ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ کام ہمارے منھج،طریقے اور دعوتی اصولوں کے خلاف ہے،اور ہم نے واضح کیا ہے کہ ہم اسلامی قوموں کو غلام قومیں سمجھتے ہیں"
 یہ بات معلوم رہے کہ تنظیم کی جس شاخ پر سب سے زیادہ ایسی کاروائیوں کی تھمت لگائی جاتی ہے وہ عراق کی تنظیم ہے جن کی قیادت کا ایک شخص ابو مسلم العراقی 2005 میں اپنی ویڈیو بیان میں کہتے ہیں" دشمن نے اپنی ناکامی اور عظیم نقصانات پر پردہ ڈالنے کے لیے بازاروں شہریوں کے درمیان بارود سے بھری گاڑیوں سے دھماکے کرنا شروع کر دیے تاکہ مجاھدین کی بدنامی ہو جائے اور ان کا تصور عام مسلمانوں کے ذہنوں میں بگاڑ دیا جائے اور تاکہ لوگ اس کے نقصانات پر انگلیاں نہ اٹھائیں ،اللہ جانتا ہے کہ مجاھدین کسی معصوم مسلمان کی ناحق جان لینے کی جرات نہیں کرتے ،بلکہ وہ تو اسلام۔ مسلمانوں کی جانوں اور ان کی عزتوں کے دفاع کے لیے ہی تو اپنے گھروں سے نکلے ہیں"
اسلامی جماعتوں کے متعلق موقف!
 شق 11 میں اسلامی جماعتوں کے بارے میں تنظیم کا موقف بیان کیا گیا ہے"دیگر اسلامی جماعتوں کے متعلق ہمارا موقف:جن باتوں پر ہم متفق ہیں اس میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں،جس میں ہمارا اختلاف ہے اس میں ایک دوسرے کو سمجھائیں گے ،سب سے پہلے ہماری جنگ اسلام کے دشمنوں اور اس کے مد مقابل گروپوں سے ہے اس لیے ایسا نہ ہو کہ جماعتوں سے اختلاف ہمیں اسلام کے دشمنوں سے عسکری،دعوتی ،فکری اور جنگ سے روک دے،اسلامی جماعتوں سے جو بھی اچھا عمل یا اچھی بات صادر ہوتی ہے ہم اس کی تائید کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،اور ان سے جو اعلانیہ غلطی صادر ہو ہم اس کا اعلانیہ طور پر رد کرتے ہیں اور جو وہ چھپ کر غلطی کریں ہم بھی اس کا چھپ کر رد کرتے ہیں،ہم علمی وقار کے ساتھ دلائل پیش کرتے ہوئے نصیحت کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں،طعن و تشنیع اور ذاتی کیچڑ اچھالنے سے گریز کرتے ہیں،کیونکہ قوت اور طاقت دلیل میں ہوتی ہے کسی کی برائیاں بیان کرنے میں نہیں"
 اپنے اس موقف کا اظہار تنظیم القاعدہ نے کئی موقعوں پر کیا،جیسے فلسطینی تحریک مزاحمت "حماس" اس تحریک کا تعلق اخوان المسلمین سے ہے جس کا تنظیم القاعدہ سے بہت زیادہ اختلاف ہے ،اس کے باوجود تنظیم اس کی تائید و نصرت کی دعوت دیتی ہے جب یہ درست کام کرے اور جب یہ تحریک غلطی کرتی ہے تنظیم اس پر تنقید کرتی ہے ۔تنظیم "فتح" اور "حماس" کو مساوی قرار دینے کے بارے میں 2007 میں اوپن  ڈسکشن میں کیے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر ایمن الظواہری نے فرمایا"میں اس کی موافقت نہیں کرتا جو حماس اور فتح کو ایک جیسا سمجھتا ہے ،حماس اپنی اسلام سے نسبت کی بار بار تاکید کرتی ہے جبکہ فتح ایک لبرل تحریک ہے،اور نہ ہی میں حماس کی قیادت کی تکفیر کرنے والے کی موافقت کرتا ہوں ،معین افراد کی تکفیر بہت خطرناک مسئلہ ہے،جس میں شروط کا پورا ہونا اور موانع کا زائل ہونا بہت ضروری ہے،میں بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہ مسئلہ چھوڑ دیں اور حماس اگر اچھے کام کرے تو اس کی تائید و نصرت پر زور دیں اور اگر وہ غلط کرے تو علمی دعوتی اور انصاف پر مبنی رد پیش کریں"
 عطیہ لیبی 2007 میں منتدیات حسبۃ کے ساتھ اوپن ڈسکشن میں فرماتے ہیں"تحریک حماس کا عالمی نظام اور داخلی حکومتوں کی سازشوں اور چالوں کے سامنے ڈٹ جانا اس کے لیے اجر کا باعث ہے اور اس کی نیکیوں میں اضافہ کا باعث ہے،اس سے زیادہ عظیم کام اس کے بیٹوں کا جہاد اور ان کی روز روشن کی طرح چمکتی قربانیاں ہیں ،اور اللہ کے راستے میں آنے والی  آزمائشوں کو قبول کرنا ہے،یہ سب کچھ ان نیکیوں میں سے ہے جن کا اجر دیا جائے گا ،ان تمام اعمال کے بارے میں ہم اللہ سے امید کرتے ہیں کہ وہ ان سے قبول فرما لے اور دنیا و آخرت میں عزت دے"
 بلکہ حالات پر نظر رکھنے والے اکثر لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ تحریک طالبان جس کی تائید و نصرت کا اعلان ڈاکٹر ایمن نے کیا ہے اس کا القاعدہ سے فکری اختلاف ہے تحریک طالبان کا تعلق دیوبندی مدرسہ سے ہے ،اس تحریک میں کچھ تصوف بھی پایا جاتا ہے اور ماتریدی عقیدہ سے اس کی نسبت ہے ماتریدی عقیدہ جو اشعری عقیدہ ہی کی مانند ہے ،اور فروعی مسائل میں اس کا اعتماد فقہ حنفی پر ہوتا ہے جبکہ القاعدہ کا تعلق سلفی لوگوں سے ہے ابو مصعب الزرقاوی 2006 میں اپنی شہادت سے قبل ایک گفتگو کی نشست میں فرمایا"ھاں یہ طالبان ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ماتریدی عقائد کے ہیں دیوبندی مدرسہ اہل سنہ سے  خارج شدہ ہے،ان لوگوں کے بارے میں معروف ہے کہ یہ اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے انہوں نے اللہ کے راستے میں قتال کیا اور یہ سرکش متکبر امریکہ کے سامنے ڈٹ گئے،ہم جانتے ہیں کہ ان میں کچھ غلطیاں بھی ہیں لییکن میرے نزدیک یہ صحیحہ عقیدہ کے حاملین جزیرہ عرب کے علماء سے بہتر ہیں جنہوں نے طاغوت عبداللہ بن عبدالوزید سے بیعت کر لی ہے،یہ کس صحیح عقیدہ کے حاملین ہیں؟؟اللہ کے نزدیک افضل کون ہیں؟؟ملا عمر یا یہ علماء؟؟ملا عمر پوری دنیا سے بہتر ہوں گے اگرچہ دنیا ساری ان جیسے لوگوں سے بھر جائے"
اسی نشست میں آپ نے یہ بھی کہا::ایک اور مثال شیخ عبدلالہ جنابی ہیں جو کہ صوفی ہے ہم ان کی مخالفت کرتے ہیں ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے اس کے باوجود الشیخ ابو انس شامی رحمہ اللہ ان کے سر کا بوسہ لیا کرتے تھے،الشیخ ابو انس نے انہیں امام ابن تیمیہ کی بعض کتابیں بطور ہدیہ بھی دی تھی ہم اس سے بھلائی کی امید کرتے تھے اور ہمارا لالچ تھا کہ ہم اسے سلف کے راستے پر کھینچ کر لے آئیں،ہم اور کیا چاہتے ہیں جبکہ وہ جھاد کا جھنڈا بلند کیے ہوئے ہو مسلمانوں کے دشمنوں سے قتال کے لیے سب کو بلانے والا ہو ،اللہ کی قسم وہ ہمارے نزدیک جھاد سے بیٹھے رہ جانے والوں اور دوسروں کی ہمتیں پست کرنے والوں سے بہت بہتر ہے"
دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کی مدد۔ بلاتفریق رنگ و نسل و مذہب
 رہا دنیا پھر کے مظلوم انسانوں کی نصرت کا معاملہ ۔اسی تحریری بیان کی 15 ویں شق میں یہ بات درج ہے"القاعدہ مظلوم اور کمزور انسانوں کی نصرت کرتی ہے وہ مسلمان ہوں یا کافر ،جو ان پر زیادتی و ظلم کرے اس سے انتقام لیتی ہے ،اور جو بھی ان کی مدد کر رہا ہو اگر کافر ہی کیوں نہ ہو اس کی تائید و نصرت کرتی ہے"
 یہ معاملہ القاعدہ کے سابق امیر اسامہ بن لادن سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے" زمین کو بچانے کا راستہ "نامی اآڈیو پیغام میں جو 5 سال پہلے جاری کی گئی تھی اس میں آپ نے فرمایا"مجاھد باذن اللہ عراق اور افغانستان میں ظالموں سے قتال کو جاری رکھیں گے،تاکہ حق حق ثابت ہو جائے اور باطل کو توڑ دیا جائے،اور مسلمانوں کی نصرت و تائید فلسطین میں بھی جاری رکھیں گے،کمزوروں اور عاجز بے بس انسان ایشیا میں ہوں یا افریقہ میں یا جنوبی امریکہ میں جن کا اللہ کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ان کی نصرت و مدد کریں گے"
 ڈاکٹر ایمن الظواھری 8 سال قبل جاری کی گئی ویڈیو ریکارڈنگ میں فرماتے ہیں ویڈیو کا عنوان ہے"غزہ اور لبنان پر صیھیونی اور صلیبی دشمنی"
اے دنیا بھر کے مظلوموں کمزوروں ،اے مغربی سرکش اور باغی ترقی جس کا سرغنہ امریکا ہے، کے شکار لوگوں،اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کا ساتھ دو جس جیسا ظلم انسانیت نے کبھی اپنی تاریخ میں نہیں دیکھا ،ہمارا ساتھ دو ہم ظلم اور سرکشی کے خلاف تمہارا ساتھ دیں گے،ظلم و سرکشی جسے ہمارے رب نے اپنی کتاب میں حرام قرار دے دیا ہے ،اللہ کا فرمان ہے {إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُوْلَئِكَ لَهُم عَذَابٌ أَلِيمٌ} ہمارا ساتھ دو تاکہ حقوق کو اس کے حقداروں تک لوٹایا جائے اور بنی نوع انسان کی تاریخ سے ظلم و زیادتی کی علامت کو گرا دیا جائے"
 ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تحریری بیان تنظیم القاعدہ کا نیا منھج نہیں ہے بلکہ پرانے منھج کو ہی دوبارہ سے پیش کرنا ہے شاید بعض گروپ جو اپنے آپ کو القاعدہ سے منسوب کرتے ہیں ان کے ایسے اعمال کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے جو القاعدہ کے منھج کے خلاف ہیں اور جس کی وجہ سے غلطیاں تنظیم القاعدہ سے منسوب کی جا رہی ہیں القاعدہ نے یہ تحریری بیان اپنے تحریکی اور عملی منھج کو بیان کرنے کے لیے جاری کیاتھا نہ کے یہ اسکا اپنے منہج سے انحراف ہے ۔
 والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ
اصل مضمون عربی میں پڑھنے کے لیے کللک کریں 
http://justpaste.it/eeey

پیر، 30 دسمبر، 2013

عراق کی بدلتی صورتحال اور اسکا پس منظر!

عراق کی بدلتی صورتحال 
21 دسمبر 2013 کی رات کو عراق کے صوبہ انبار میں برسرپیکار عراقی فوج کے ساتویں ڈویژن کے اعلی کمانداروں کو ایک خفیہ اطلاع ملی کہ نینوی کی سرحد کے قریب ادھم کے مقام پر القاعدہ کا ایک خفیہ اڈہ پایا جاتا ہے جسمیں ابوبکر البغدادی کے موجود ہونے کا یقین ہے ۔یہ اطلاع اسقدر متاثر کن تھی کہ ساتویں ڈویژن کے کمانداروں نے اس آپریشن کی زمہ داری خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ بڑی سرعت و احتیاط کے ساتھ القاعدہ کے اس ممکنہ ٹھکانے کے اردگرد گھیرا ڈال دیا گیا لیکن وقت گزرنے کیساتھ یہ احساس ہونے لگا کہ یہ عمارت جسکے بارے میں دعوی کیا جارہا ہے خالی ہے ۔اس بات کا یقین ہوجانے پر ساتویں ڈویژن کے اعلی کماندار جن میں ساتویں ڈویژن کے سربراہ کمانڈر جنرل محمد الکروی ، ان کے اسسٹنٹ جنرل محمد نعمان اور ستایسیویں اور انتیسیویں بریگیڈ کے سربراہ شامل تھے عمارت کے اندر جائزہ لینے کے لیے داخل ہوئے ۔
لیکن انکا عمارت کا خالی ہونے کا تخمینہ بالکل غلط ثابت ہوا یہ القاعدہ کا پھیلایا ہوا جال تھا جسمیں عراقی فوج چوہے کی طرح پھنس کررہ گئی ،عمارت مکمل طور پر چھپائے گئے بموں و خودکش حملہ آوروں سے لیس تھی جنہوں نے ان لوگوں کے اندر داخل ہوتے ہی پھٹنا شروع کردیا اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچ پایا ۔
یہ حادثہ عراقی انتظامیہ کو ہلانے کے لیے کافی تھا بغداد جو کے پہلے ہی ہر روز کے بم دھماکوں سے بیزار تھا اسنے فیصلہ کیا کہ صوبہ انبار کے صحرا میں چھپے ہوئے القاعدہ کے بندوں کیخلاف ایک بھرپور آپریشن کیا جائے گا ۔مالکی حکومت کے اس فیصلے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر بٹے ہوئے ملک میں بہت عوامی حمایت حاصل ہوئی اور عراقی بلاامتیاز اپنے فرقے کے اس فیصلے کی حمایت میں کمربستہ ہوگئے اور ہر شہر میں ایک بھرپور آپریشن کی حمایت میں جلوس نکالے گئے ،یہانتکہ صوبہ انبار کے مشہور عالم شیخ الحیث نے بھی اہل انبار کو القاعدہ سے لڑنے اور اس آپریشن کی حمایت کرنے پر یہ کہہ کر ابھارا کہ القاعدہ کے اس حملے میں مرنے والے زیادہ تر انباری ہیں  
لیکن عراقی وزیراعظم المالکی نے اس موقع کو اپنے سیاسی مخالفین کے اوپر کریک ڈاون کرنے کے لیے بھی غنیمت جانا۔مالکی کے سنی سیاسی مخالفین تقریبا ایک سال سے مالکی گورنمنٹ پر سنیوں کی سیاسی و معاشی بیخ کنی کرنے کے الزام لگاتے رہے ہیں اور اس کو ایرانی حمایت یافتہ حکومت قرار دیتے ہیں ،یہ ایک عرصے سے وزیراعظم مالکی سے استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں اور رمادی میں گذشتہ کئی ماہ سے انہوں نے اس مطالبے پر دھرنا دیا ہوا ہے ،ان سیاسی مخالفین میں سے سب سے معتبر نام ،سنی رکن پارلیمنٹ احمدالعلوانی کا ہے جو کے اپنی تقاریر میں برملا مالکی گورنمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اسے ایک فرقہ وارانہ حکومت قرار دیتے ہیں اپنی ایک تقریر میں العلوانی نے یہاں تک کہا تھا کہ ایرانی ایجنٹ ،عراقی سرزمین پر موجود ہیں اور ان کو پاتے ہی ان کے سر بغیر کسی رحم کے کاٹ دینے چاہییں ۔
عراق کے وزیر اعظم مالکی پر تجزیہ نگاروں کیمطابق ایران کیطرف سے بھی کافی دباو ہے جو کے شام میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے سخت پریشان ہے ، عراق کے صوبہ انبار سے ملحقہ شامی صوبے دیرالزور میں اسکو بدترین شکست کا سامنا ہے جسکا صرف ایئرپورٹ اسوقت شامی فوجوں کے قبضے میں ہے دیرالزور میں شامی فوجوں سے برسرپیکار مجاہد تنظیم کوئی اور نہیں دولۃ الاسلامیہ العراق والشام ہی ہے ۔دیرالزور پر ان کا قبضہ ہوجانے کا مطلب ہے کہ عراق تا شام ایک وسیع پٹی ان کے زیر اقتدار آتی ہے ، شام میں برسرپیکار القاعدہ کو اسی بارڈر سے سامان رسد و جنگجو ملتے ہیں ، اسلیے مالکی حکومت ادھر ایک بڑا آپریشن کرکے دیرالزور میں پڑنے والے دباو کو کم کرنا چاہتی تھی ۔
نورالمالکی جو کے ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے وہ حالیہ امریکہ دورہ پر امریکہ کی آشیر واد بھی حاصل کرچکے تھے اس آپریشن کی آڑ میں اپنے سیاسی مخالفین پر کریک ڈاون بھی شروع کردیا اور رمادی میں سنی رکن پارلیمنٹ احمد العلوانی کے گھر سیکورٹی فورسز نے دھاوا بول دیا ،احمد العلوانی کی پرامن گرفتاری سے انکار ایک مسلح جھڑپ میں بدل گیا جسمیں احمد العلوانی کے بھائی سمیت ان کے دس باڈی گارڈ مارے گئے اور احمد العلوانی کو گرفتار کرلیا گیا ، مالکی حکومت کے اسقدم پر سنی علاقوں میں شدید احتجاج پھیل گیا ٖفلوجہ و رمادی میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ، احمد العلوانی کے قبیلے کا نام العلوان ہے اسنے مالکی حکومت کو العلوان کو رہا کرنے کے لیے بارہ گھنٹوں کی مہلت دی جسپر مالکی حکومت نے یہ شرط عائد کی کہ اگر رمادی میں جاری دھرنا ختم کردیا جائے جو کے نورالمالکی کے استعفی کا مطالبہ کررہا ہے تو العلوانی کو رہا کردیا جائے گا ، اسکے جواب میں فلوجہ ورمادی کی مساجد سے مالکی حکومت کیخلاف جہاد کرنے کی اپیل کی گئی اور فلوجہ سے جنگجووں کو رمادی میں جاری دھرنے کی حفاظت کرنے کے لیے روانہ 
کردیا گیا ہے 

فلوجہ میں حکومت مخالف مظاہرے کی ایک جھلک 
رمادی میں حکومت مخالف مظاہرے کی ایک جھلک
تازہ ترین صورتحال 

رمادی میں جاری دھرنا ایک لڑائی کے بعد ختم کردیا گیا ہے جسمیں دس بندوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے ، صوبہ انبار ،فلوجہ ، رمادی ، تکریت مکمل بغاوت پر آمادہ ہیں اور جگہ جگہ فوج و پولیس سے جھڑپیں جاری ہیں ،بیشتر عراقی قبائل حکومت خلاف مظاہروں میں شریک ہوگئے ہیں اور بغداد کا رابطہ ان علاقوں سے کاٹ دیا گیا ہے ،صوبہ انبار کے قبائلی سرداروں نے القاعدہ سے ہنگامی میٹنگ کی ہے اور عراقی فوجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے ۔ حکومتی حمایت یافتہ قبائل جو کے پہلے القاعدہ کے کیخلاف بننے والی صحوہ کے متحرک رکن رہے ہیں ان میں سے چند کے علاوہ بیشتر اس بغاوت میں شریک ہیں ،تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال جاری رہتی ہے اور مالکی حکومت اس سے نبٹنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو عراق میں عوامی پیمانے پر ایک بڑی جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے ۔جسکا حتمی فائدہ القاعدہ کو ہوگا اور اسکی جہادی مہم کو نئی زندگی مل جائے گی ،اسکے علاوہ اس جنگ کا بہت گہرا اثر شام میں جاری جنگ پر بھی پڑے گا اور پورا خطہ واضح طور پر رافضی و سنی بلاکز میں تقسیم ہوجائے گا ۔

جمعہ، 22 نومبر، 2013

لشکر شام ۔ جبھۃ الاسلامیہ ۔ خصوصی رپورٹ از وردۃ الاسلام




 شام میں برسرپیکار 6 بڑےو نمایاں مجاہد گروہوں نے بشار سے لڑنے و اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے ایک نئے اتحاد جبھۃ الاسلامیہ کی تشکیل دی ہے جو کہ ساٹھ سے ستر ہزار تک جنگجووں پر مشتمل ہے
 بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس اتحاد کا اعلان 22 نومبر 2012 بروز جمعے کو کیا گیا مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ موجودہ تاریخ میں کسی بھی ملک میں تشکیل دیئے جانے والا سب سے بڑا اسلامی لشکر ہے اسمیں شامل گروہوں میں مندرجہ ذیل بڑے گروہ ہیں
 لواء التوحید
 شام میں لڑنے والے بڑے جہادی گروہوں میں سے ایک۔ اس کے لیڈر عبدالقادر صالح تھے جو کہ چند دن پیشتر ہی شامی فوجوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے ۔جبھۃ الاسلامیہ کی تشکیل کے وقت اس کو ان کے نام سے ہی منسوب کیا گیا۔
 حرکہ احرار الشام الاسلامیہ۔
 مقامی شامی سلفی گروہوں میں سے سب سے زیادہ مضبوط ۔ احرارالشام اپنی دلیری و مہارت کے لیے مشہور ہے اور کئی مشہور معرکوں میں حصہ لے چکا ہے۔ احرار الشام کو القاعدہ ہی کی طرح کا گروہ خیال کیا جاتا ہے گو کہ اس نے کبھی القاعدہ سے وابستگی کا اعلان نہیں کیا ۔ اس کے سربراہ عبداللہ الحموی ہیں
جیش الاسلام
 ستمبر 2013 میں کئی مجاہد تنظیموں کو ملا کر اسلام بریگیڈ کے سربراہ ظہران العوش کی قیادت میں ایک لشکر کی تشکیل ہوئی جس کو جیش الاسلام کا نام دیا گیا۔ اس گروہ کے متعلق سعودیہ نواز ہونے کا گمان ہے گو کہ اس کی اعلی قیادت اس کا انکار کرتی ہے اور میدان جنگ میں القاعدہ سے منسلکہ تنظیموں کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہے۔ جیش الاسلام اب جبھۃ الاسلامیہ میں ضم ہوچکاہے ۔
 صقور الشام
 شیخ احمد ابو عیسی کی زیرقیادت لڑنے والا یہ گروہ اپنی بہادری و جرآت کی وجہ سے ایک ممتاز حثیت رکھتا ہے ۔سلفی العقیدہ شیخ احمد ابو عیسی اور ان کا خاندان بشاری اقتدار کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ موجودہ صدر بشار اور اس کے باپ حافظ الاسد کے دور میں شیخ احمد ابو عیسی کے کئی قریبی رشتے داروں کو ماردیا گیا ۔ یہ گروہ اب جبھۃ الاسلامیہ کا حصہ ہوگا لواء الحق سلفیوں کی زیر قیادت لڑنے والا یہ گروہ حمص و گردونواح میں اپنی جانباز کاروایئوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
  انصار الشام
 یہ شمالی الاذقیہ اور ادلب میں کاروایئاں کرتا ہے اور اس کا شمار بڑے جنگجو گروہوں میں ہوتا ہے
 کرد اسلامک فرنٹ۔
 اس کا شمار بڑے گروہوں میں نہیں ہے لیکن اس کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ یہ اپنے ہی ہم وطن کردوں سے جو کہ بشار کا ساتھ دیتے ہیں مذہب کی وجہ سے برسرپیکار ہے۔
  شیخ احمد عیسیٰ کو مجلس شوریٰ کا صدر متعین کیا گیا جو کہ صقور الشام نامی لشکر کے امیر ہیں۔ احمد زیدان امیر لواء التوحید نائب صدر مقرر ہوئے ہیں عسکری شعبہ کے صدر زھران علوش ہیں جو کہ جیش الاسلامی کے سربراہ ہیں سیاسی شعبہ کے سربراہ حسان عبود ہیں جو احرار الشام کے قائد ہیں جبھہ کے عام سربراہ لوائ الحق نامی لشکر سے ابو راتب حمصی ہیں حرکۃ احرار الشام سے ابو العباس جبھہ کے شرعی معاملات کے مسئول ہیں۔ ۔شیخ احمد عیسی نے جبھہ کی تعریف کرتے ہوے فرمایا:یہ ایک سیاسی عسکری اور معاشرت تشکیل ہے جس کا مقصد شام میں بشار لاسد کے ظالم نظام کاخاتمہ اور اسلامی مملکت کا قیام ہے جس میں کبریائی اللہ اکیلے کو حاصل ہو گی وہی ایک فرد،معاشرہ اور حکومت کے معاملات میں اکیلا مرجع اور حاکم ہو گا۔
جبھتہ االاسلامیہ کی مجلس شوریٰ کے صدر (شیخ احمد عیسیٰ) کا کہنا ہے ::اس اتحاد کا قیام شیخ عبدالقادر صالح کے خواب کو پورا کرتا ہے جو کہ شام میں مسلمان جنگجووں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش میں رہتے تھے اور مزید یہ کہ اس تشکیل کردہ تحریک سے سوری نظام کا مکمل نعم البدل حاصل ہو جائے گا ۔شیخ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جبھہ اسلامیہ ان تمام دستوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی جو شام میں انقلاب کے لیے کام کر رہے ہیں وہ کسی سے ٹکراو نہیں کرے گی۔ تمام جہادی اور عسکری قوتوں کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اتحاد کا یہ عمل لواء التوحید کے قائد عبدالقادر صالح کی شہادت کے ایک ہفتے بعد وجود میں اآیا۔عبدالقادر رحمہ اللہ 17۔11۔2013 کو شہید ہوئے اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے۔
 مغربی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ امر باعث حیرت ہے کہ القاعدہ سے منسلکہ دو بڑے گروہ جبھۃ النصرہ و دولۃ الاسلامیہ العراق و الشام اس میں شامل نہیں ہیں اور وہ اس پر مختلف قیاس آریئوں کو جنم دے رہے ہیں ۔ لیکن مجاہد تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والا اور جہاد کی سمجھ رکھنے والا تجزیہ کار اس امر سے بے خبر نہیں ہے کہ ان گروہوں کو اعلانیہ طور پر کسی بھی اتحاد سے باہر رکھنا ایک حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ان گروہوں کی اپنی رضامندی بھی شامل ہے ،وگرنہ میدان جنگ میں یہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں بلکہ جبھۃ النصرہ و الدولۃ ان کی قیادت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں

بدھ، 13 نومبر، 2013

متفرقات !




  رافضی و صوفی سیکولرز !


 ایک گھر میں چور گھس آیا۔ پاوں کی ٹھوکر سے ایک برتن زمین پر گر پڑا جس کی وجہ سے اہل خانہ کی آنکھ کھل گئی ، چور کی جان پر بن گئی ، بھاگ نکلنے کا کوئی مناسب راستہ نہ تھا ، بھاگ کر اہل خانہ کے سربراہ کی چارپائی کے نیچے ہی چھپ گیا۔ اہل خانہ نے چور چور کا شور مچا دیا ، اہل محلہ اکھٹے ہوئے، اسلحہ اکھٹا کیا گیا ، ٹھیکری پہرے کا انتطام ہونے لگا ، گھر کی چیزوں کو اچھی طرح چیک کیا گیا کہ کچھ کم تو نہیں ہے ۔ پولیس کو خبر دی گئی ، کھرا تلاش کرنے کے لیے کھوجی بھی بلا لیا گیا ۔ چور صاحب چارپائی کے نیچے چھپ کر سب کچھ خاموشی کے ساتھ دیکھتے رہے ، کسی کا دھیان نہیں گیا کہ چور ادھر بھی چھپ سکتا ہے ، جیسے کہ ہنگامہ ٹھنڈا ہوا ، اہل خانہ سکون کی تان کر پھر سو گئے ، چور صاحب دوبارہ نکلے ،سارا سامان سمیٹا اور یہ جا تو وہ جا !! یہ رافضی و صوفی سیکولرز بھی اسی قسم کے چور ہیں جو کہ چپکے سے چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے ہیں ہم ہر طرف چورچور کا شور مچارہے ہیں اور اپنی چارپائی کے نیچے نظر ڈال کر نہیں دیکھتے ۔!! یہ رافضی سیکولر ہے جو کہ ناستک یا دہریہ ہونے کا دعوی کرتا ہے ۔ یاد رہے کہ دعوی اس کے جدید آئمہ بھی تقیہ کا پردہ اوڑھے کرتے رہے ہیں کمیونسٹ انقلاب سے ان کو بہت ہمدردی رہی ہے ، ہوسکتا ہے کہ آپ کو ان کی تحریروں یا تقریروں میں اللہ کا انکار بھی ملے ، حدیث کا انکار بھی ملے ، یہ اسلامی نظام حکومت کا مذاق اڑاتے بھی نظر آئیں ، جہاد کو فساد بھی قرار دے رہے ہوں ، اسلامی تعلیمات کے بھی منکر ہوں ۔ لیکن زرا کسی بھی "عباس ، نقوی ، رضوی ، ہاشمی ، حسینی کا لاحقہ لگے ایسے سیکولر کا پردہ چاک کرنا ہو تو کلیہ آسان ہے ۔ خمینی کو دو تین گالیوں سے نواز دیجیے ، بارہوین امام غائب کی شان میں کچھ کلمات ارشاد فرمادیجیے ، واقعہ کربلا کو زرا زیر تنقید لے آیئے ۔ اغلب امکان یہی ہے کہ سیکولرازم کے پردے پیچھے سے رفض کا گھناونا چہرہ نمودار ہوگا !!! دوسروں کا داو اس بھی خطرناک ہے ۔ نہ اللہ کا انکار ، نہ رسول کا ، نہ قرآن کا نہ حدیث کا ، لیکن جو کچھ بھی یہ آپ کو دینے والے ہیں وہ صرف اور صرف "یہی نہیں ہے" بلکہ "سب کچھ" ہے ۔ قرآن کے ساتھ بائبل بھی پڑھ لیں ، نماز کے ساتھ قوالی بھی سن لیں ، غامدی کی تردید کردیں اور احمد رضا بریلوی کے قریب کردیں ، جہاد ہر گز نہ کریں بلکہ خدمت خلق کریں ، اللہ کے وجود کا انکار کس نے کہا !! یہ تو صرف کہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ ساتھ بھگوان ، غوث ، مشکل کشا ، حاجت روا کو بھی مان لو !! سب کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ جو نہیں مانتا وہ بھی ٹھیک جو مانتا ہے وہ بھی ٹھیک ! کسی کا مذہب چھیڑو نہیں اپنا چھوڑو نہیں !! قتال فتنہ و فساد ہے صوفیا کی تعلیمات تو امن پھیلانا ہے ، عالمگیر امن !! چارپائی کے نیچے بھی جھانک لیں چور یہیں چھپا ہوا ہے !!


اندھے نہیں بینا !



جن لوگوں کی بینائی کسی بھی وجہ سے خراب ہو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نظر کی خرابی دو طرح کی ہے ، دور کی اور نزدیک کی ! 
جس کی دور کی نظر خراب ہے ضروری نہیں کہ اس کی قریب کی بھی خراب ہو ، اور جس کی قریب کی خراب ہو ضروری نہیں کہ اس کی دور کی بھی خراب ہو ۔ دونوں نظریں خراب ہونا بھی عام بات ہے ۔ لیکن جس کی دور کی خراب ہوگی وہ دور کا چشمہ یا کنیٹکٹ لینز استعمال کرے گا اور جس کی قریب کی خراب ہوگی وہ قریب کا چشمہ یا کنیٹکٹ لینز استعمال کرے گا ۔ عینک دونوں صورتوں میں لگنی ہے چاہے قریب کی لگے چاہے دور کی !
ہمارے بیشتر علماء یا دوستوں کا مسئلہ بھی یہی ہے ، یہ ایک عالم ہیں یا فلسفی ہیں یا غوروفکر کرنے والے رقیق القلب انسان ہیں ، کافی پڑھے لکھے بھی ہیں مدلل قسم کی چیزیں بھی سامنے لاتے ہیں "جمہوریت ، سیکولرازم ، ہیومن ازم ، گلوبل ازم" جیسے مشکل و دقت طلب مسائل کے کفر کو بہت اچھی طرح سمجھتے و جانتے ہیں ، ان کی نظر اتنی "دوررس" ہے کہ اچھی طرح سمجھتے و جانتے ہیں کہ ان مظاہر سے اسلام کو کس قدر خطرہ لاحق ہے ۔ لیکن عین اپنی ناک کے نیچے والے کفر کو دیکھنے کے روادار نہیں ! عرس ، مزار ، غیر اللہ کی پکار ، چادر پوشیاں ، فتنہ تصوف ، وحدۃ الوجود و شہود ، عالم سکر و صحو ، گھڑی ہوئی کرامتیں ، رومی رقص و وجدان انہیں نظر نہیں آتا ! اور اگر انہیں کہا جائے کہ بھائی آپ کی قریب کی نظر کمزور لگتی ہے زرا توحید کی عینک لگا کر یہ عین ناک کے نیچے ہونے والے کفر پر بھی توجہ کیجیے تو غالب امکان یہی ہے کہ آپ کو فرقہ پرستی یا کم علمی کا الزام لگا کر مسترد کردیا جائے !!
یہ دوسرے صاحب ہیں !! ماشاءاللہ وثنی شرک کے تو بخیے ادھیڑ دیتے ہیں ، کیا مجال ہے کہ وثنی شرک کا کوئی مظہر ان کی آنکھوں سے بچ کر جائے ۔ توحید کے معاملے میں اتنے پختہ ہیں کہ کوئی بھی ہستی ان کی تلوار کی دھار سے بچ نہیں سکتی ، رسول اللہ کے مقابلے میں کوئی اور بات لے لیں ہرگز نہیں ! یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔ قبروں ، قبوں ، عرسوں ، مجالسوں ، میلادوں ، کے رد کا جتنا زور آپ کو ان کے ہاں ملے گا شائد ہی ایسے مدلل دلائل کہیں اور دستیاب ہوں ۔ لیکن ان کی "دور کی نظر" کمزور ہے ۔ مدرسہ بچانے کے لیے عین ممکن ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کا جھنڈا اٹھائے نظر آئیں ، یا کچھ "جماعتی مجبوریوں" کی وجہ سے جمہوریت کو ہی عین اسلام قرار دے رہے ہوں ۔ یا حکومت وقت کی غیر مشروط حمایت ہی انہیں عین حق نظر آرہی ہو ۔ اور اگر کوئی دوست ہمدردانہ لہجے میں انہیں درخواست کرے کہ حضور دور کی نظر کمزور لگتی ہے چشمہ لگا لیجیے تو تکفیری یا خارجی کا فتوی تو کہیں بھی نہیں گیا !!
امت کو ان اندھوں کی نہیں بیناوں کی ضرورت ہے


رافضی فتنہ ! توہین رسالت کے موضوع پر لکھی گئی ایک تحریر ۔سمبتر 15۔2012

شائد مستقبل کا مورخ اس بات کو لکھے کہ جب پوری دنیا میں مسلمان حرمت رسول کے لیے کٹ مر رھے تھے عین اسی وقت "رافضی فتنہ لبنان میں پوپ کی تصویریں اٹھائے سڑک کے دونوں طرف ہزاروں کی تعداد میں کھڑا اس کا استقبال کررھا تھا"


حضرت شماس رضی اللہ تعالی عنہ کی حب رسولؐ۔


یہ شماس رضی اللہ تعالی عنہ ہیں،غزوہ احد کا میدان گرم ہے کفار اللہ کے رسول پر حملہ آور ہوتے ہیں ، شماس اکیلے کفار کا غلبہ ، مقصد اللہ کے رسول کا تحفظ،تلواروں اور تیروں کو اپنے ہاتھ ،سینے اور چہرے پر روکتے ہیں ، زبان حق سے یہ نعرہ حق بلند ہورہا ہے
اے اللہ کے رسول
پہلے میرا چہرہ ،پھر آپ کا چہرہ
پہلے میرا ہاتھ ،پھر آپ کا ہاتھ
پہلے میرا سینہ ،پھر آپ کا سینہ

سمتبر 21۔2012

اصل دشمن!

توہین رسالت کے تناظر میں ایک تحریر
شام ہورہی ہے ،احتجاجی مظاہرے رفتہ رفتہ تھک کر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں گئیں بڑی امید ہے کہ "کچھ سکالرین" آج ہی میڈیائی سانپ پر بیٹھ کر ان ہنگاموں کے خلاف ایک اونچی راگنی چھیڑیں گئیں اور کل سے ملک میں دفعہ 144 کا نفاذ ہوجائے گا جس کے مطابق ملک بھر میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی جائے گی اور اسمیں علما کی مرضی بھی شامل ہوگی!!
اے حب رسول کے نام پر نکلنے والے شاہینوں، اے نبی کی حرمت کے لیے ظلم و تشدد برداشت کرنے والوں ، تمھارے بدن چور چور ہوں گئیں ،اور شائد زخم خوردہ بھی ،میں تم سے شرمندہ ہوں ، میں سارا دن دعا کے علاوہ تمھارے لیے کچھ نہیں کرسکا مگر آج رات زرا ان ٹی وی تبصروں کو سنتے ہوئے ، اپنے اندر کے شرپسندوں کو پہچانتے ہوئے یہ ضرور سوچنا کہ تم جن کے کہنے پر نکلے تھے وہ کدھر گئے ؟،تمھارا راستہ کس نے روکا؟، تمھیں گھاو کس نے لگائے ؟، اگر ہوسکے تو اصل "گستاخوں" کو پہچاننا، اور اگلی بار اپنا رخ درست کرلینا،اللہ تمھارا حامی و ناصر ہو



پرامن۔(توہین رسالت کے پس منظر میں لکھی گئی ایک تحریر۔سمتبر 2012)


مجھے یہ بھی قبول ہے کہ "اپنی املاک" کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔۔اس سے بھی اختلاف نہیں کہ جلسے جلوسوں کے دوران معصوم شہریوں کو تنگ کرنا،ان کا راستہ روکنا ،سرکاری و غیر سرکاری املاک پر حملہ کرنا ،ان کو لوٹنا،جلانا سب غلط ہے ،سفیر کو نقصان پہنچانے کا بھی میں قائل نہیں مگر یہ "پرامن" احتجاج کیا ہوتا ہے!!!میرے ساتھ کے گھر والے سے مجھے مسلسل اپنے ماں و باپ کو گالیوں کی آوازیں آرہی ہوں ،تو کیا میں پر امن رہ پاوں گا؟ ڈاکو میری عزت سے کھلواڑ کررہے ہوں تو کون ہے جو مجھے "پر امن" رکھ سکے؟چند بدمعاش مل کر گلی محلے میں میری ماں اور بہن کے متعلق گندی باتئیں کررہے ہوں تو ان کو چھوڑ کر مجھے "پرامن" رہنے کی تلقین کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ کبھی کسی گاوں کے چوہدری کو "پرامن" پایا ہے جس کے حسب و نسب میں طعن کر کے اسے "چوہدریوں" کے بجائے میراثیوں کا نطفہ قرار دیا جارہا ہو؟ کبھی اس جماعت کے کارکنان کو "پرامن" پایا ہے جن کی محبوب لیڈر قتل کردی گئی ہو؟ کبھی کسی عوامی لیڈر کا مذاق اڑنے کی صورت میں اس کے متبعین کو "پرامن" پایا ہے؟ ہولو کاسٹ کے متبعین کو کبھی کسی نے "پرامن" دیکھا ہے؟کالوں کی تذلیل ہونے کی صورت میں کبھی امریکہ میں بھی ان کو "پرامن" دیکھا گیا ہو؟فرانس میں تیل کی قیمتیں ہی تو بڑھی تھیں مگر لوگ تو ادھر بھی "پرامن" نہیں رہے؟ لندن میں ایک شخص ہی تو پولیس فائرنگ سے مرا تھا "مگر مظاہرے "پرامن" نہ تھے!! تو پھر مجھے کس "امن " کی تلقین کی جارہی ہے !! محمدعربی کی توہین کردی جائے اور امت "پرامن" رہے ،ان کے برہنہ کارٹون چھاپ دیے جائیں اور "مسلمان "پرامن" رہیں ۔۔غلیظ لوگ ان کا روپ دھارے جو کہ یقینا ان کا روپ بھی نہیں ہے بلکہ شیطان کا چہرہ ہے ایکدوسرے ساتھ سیکس کرتے دکھائے جائیں اور امت "پرامن" رہے ؟!! کیوں رہے پرامن؟ جب یہ احتجاج کا طریقہ بھی تم نے سکھایا ہو، اس کے اصول اور ضابطے بھی تم نے مقرر کیے ہوں اس کی اجازت بھی تم نے دے رکھی ہو،اس کو آزادی اظہار کا طریقہ بھی تم مانتے ہو تو پھر کیوں رہے "پرامن"؟؟ ابھی تو شکر کرو اس کو درست احتجاج کا پتہ نہیں وگرنہ یہ مظاہرے نہ کررہی ہوتی جن کے ہونے کا تمھیں کوئی فرق نہیں بلکہ تم تو چاہتے ہو کہ یہ ہوں۔۔تاکہ لوگ احتجاج کا طریقہ بھی تم سے سیکھیں اور وہ احتجاج بھی "پرامن" ہو اور تم پھر "پرامن طریقوں" سے کوئی اور توہین کرسکو اور امت پھر "پرامن" احتجاج میں مشغول ہوجائے!! اس کی یہ تربیت تو تمھیں درکار ہے ،یہاں تک کہ یہ غیرت رسول سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے اور ہر ہونے والی توہین پر "پرامن"رہنا سیکھ جائے مگر یہ بات اب آسان نہ رہے گی وقت آنے والا ہے کہ یہ اصل احتجاج کرے گی وہ کہ جو اسے سلف سے ملا ہے یہ تمھارے اس طور طریقے سے بھی جان چھڑا لے گی وہ احتجاج جس کے خوف سے تمھاری نیندیں اڑی ہوئی ہیں ،ہاں ہاں امت محمدیہ جاگ رہی ہے اسے تم نے جگا دیا ہے اور "تلوار والااحتجاج" کرنے والی ہے اور کیوں نہ کرے محمد عربی کی حرمت کا معاملہ ہے جس کے بغیر ایمان 
مکمل ہی نہیں ہوتا!


فتنہ و امت کے مابین دروازہ ۔ نومبر 2012


ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے پوچھا تم میں سے کسے فتنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انسان کا فتنہ( آزمائش) اس کی بیوی، اس کے مال، اس کے بچے اور پڑوسی کے معاملات میں ہوتا ہے جس کا کفارہ نماز، صدقہ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کردیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھتا ہوں جو دریا کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین تم پر اس کا کوئی خطرہ نہیں اس کے اور تمہارے درمیان ایک بند دروازہ رکاوٹ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا وہ دروازہ توڑدیا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ بیان کیا توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہ ہوسکے گا۔ میں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا عمرص اس دروازہ کے متعلق جانتے تھے؟ فرمایا کہ ہاں، جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیو ںکہ میں نے ایسی بات بیان کی تھی جو بے بنیاد نہیں تھی۔ ہمیں ان سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگا کہ وہ دروازہ کون تھے۔ چنانچہ ہم نے مسروق سے کہا( کہ وہ پوچھیں) جب انہوں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کون تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ دروازہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔
(متفق علیہ)
اے رافضیوں کس کو گالی نکالتے ھو ، کس کی شان میں تمھاری زبان گستاخی پر دراز ھوتی ھے ، تم علم کے دروازے والی جھوٹی حدیث لیے بیٹھے ھو ادھر دیکھو فتنے اور امت کے درمیان کا دروازہ کون تھا، کس کی زات بابرکات نے فتنے کو روکے رکھا تھا ،آج تم اس دروازے کو توڑنے والے کا مزار بناتے ھو ادھر حاضری دیتے ھو!!! رب کعبہ کی قسم تم خود فتنہ ھو!


قاضی حسین احمد صاحب کی وفات پر ایک حدیث ! جنوری 2013
حضور فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوز خیوں کے اعمال سروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھ آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے ،۔۔صحیح بخاری


اس دور کا ابن تیمیہ ؟

جولائی 2013

گھوڑے جب زمین پر ٹاپیں مارتے تو گردوغبار کا ایک بادل سا اٹھتا ، نعروں کی گونج سے آسمان کا سینہ چیرا جارھا تھا ،سخت کوش ،تنومند تاتاری کمانیں کھینچے ھوئے تھے عربی گھوڑوں پر ان کہ کسے ھوئے بدن ایک عجب منظر پیش کرتے جس کو دیکھنے سے ہی دلوں پر ھیبت طاری ھوجاتی ،کثرت تعداد ، جنگی مہارت ، دلیری و شجاعت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا!
شامی و مصری مسلمان لشکریوں کہ دلوں میں ایک وحشت کا عالم تھا یہ لشکر جو کہ تاتار کہ جم غفیر کا سامنا کرنے کہ لیے بڑی مشکل سے جمع کیا گیا تھا اس کو اپنی جیت کا یقین نہ تھا ! مگر ایک ادھیڑ عمر نحیف سا شخص جس کہ چہرے پر ایک عجب سی چمک تھی بجلی کی کوندے کی طرح لپک رھا تھا !
اس پر نظر پڑتے ہی لشکریوں کا اضطراب جیسے دور سا ھوجاتا ! وہ ہر دستے کہ سامنے سے گھوڑا دوڑاتا ھوا گزرتا اور قسما و حلفا کہتا " کہ آج فتح تمھاری ھوگی"۔ اس قید یافتہ ،نحیف نراز شخص کہ وجود سے ایک عجب وقار جھلکتا ،اس کہ الفاظ میں عجب جادو تھا ، جنگ کہ لیے تیار ہر دستہ اس کہ قریب آکر درخواست کرتا اے شیخ اب تیمیہ آیئے ھمارے ساتھ کھڑے ھوں ، دیکھیں ہم جانثار ھیں آپ کی حفاظت بخوبی کریں گئیں ، مگر اس پر ایک عجب حال طاری تھا اتباع سنت کا امام کہتا نہیں ، رسول اللہ کی سنت ھے کہ بندہ اپنے قبیلے کہ ساتھ ہی کھڑا ھو !
اس کو ہر بات کی فکر تھی ، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ آج شقحب کہ میدان میں شکست کا مطلب ،مسلمانوں کی عظیم بربادی ھے ، وہ اس لشکر کا امیر نہ تھا ،مگر لشکر کا عسکری جزبہ اسی کا مرھون منت تھا ،رات کی خاموش تنہایئوں میں یہ اللہ کہ سامنے گڑگڑاتا رھا تھا کہ "مالک لاج رکھنا" ۔ یہ لشکر جو کہ تاتاریوں کی ھیبت سے لرزاں تھا اسی کی مساعی کی وجہ سے اکھٹا ھوا تھا
جنگ کا مرحلہ قریب آرھا تھا ، تاتاریوں کا لشکر صف بندی کرچکا تھا ، رمضان کا مہنیہ بھی کفر و اسلام کی اس جنگ کو دم سادھے دیکھ رھا تھا ، ابن تیمیہ نے اپنے گھوڑے کو لشکر کا چکر مکمل کرنے کہ لیے پھر ایڑ لگائی اس دفعہ ان کہ ہاتھ میں کجھوریں تھیں جن کو وہ اہل لشکر کہ سامنے کھاتے جاتے اور سنت یاد دلواتے جاتے کہ دشمن کہ مقابلے میں اگر کمزوری کا خدشہ ھے تو روزہ کھول لو ! آج اگر کسی بھی جسمانی کمزوری کی وجہ سے کفر غالب آگیا تو روزے کا فائدہ نہ ھوگا!
معرکہ شروع ھوگیا ،تاتاری پے در پے آگے بڑھے ،ان کہ پہلے حملے نے ہی مسلمانوں کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا ، بزدل پیٹھ دکھا کر بھاگے ، یہ حالت دیکھ کر مصر کہ حکمران ناصر بن قلاوون نے حکم دیا کہ اس کہ گھوڑے کو زنجیروں سے باندھ دیا جائے ۔ اور اللہ کہ ساتھ میدان جنگ میں موت تک لڑنے کا عہد کیا ۔امیر حسام الدین دیوانہ وار آگے بڑھے اور تاتاریوں کی صف چیرتے ھوئے شہید ھوگئے ،استاد دارالسلطان نے آٹھ امراءسمیت موت پر بیعت کی اور اور اپنا وعدہ پورا کردیا ،صلاح الدین بن ملک کی شان ہی نرالی تھی امیر ھونے کہ باوجود سپاہیوں سے بھی آگے جا کر لڑ رھے تھے !
شامی لشکر میں ابن تیمیہ کی شان ہی نرالی تھی ،یہ قلم و تقریر کا مجاہد آج تلوار ہاتھ میں تھامے شہادت کی تلاش میں سرگرداں تھا ! بار بار اپنے شامی ھمسازوں کو کہتا کہ مجھے اس جگہ لے چلو "جہاں پر موت ناچ رھی ھو" شامی جانباز اس کو دیکھ کر ھمت پکڑتے شاھیںوں کی طرح جھپٹتے اور چیتوں کی طرح دشمن کہ اجسام میں اپنی تلواریں پیوست کردیتے ،معلوم نہیں کہ ابن تیمیہ نے اس دن کیا نعرے لگائے ھوں گئیں مگر اس کا اندازہ ضرور ھے کہ جب یہ مرد حق نعرہ لگا کر حملہ آور ھوتا ھوگا تو ایک جم غفیر لیبیک کہتا ھوا شیر کی طرح حملہ کرتا ھوگا!
علماء و امرائے اسلام کی یہ بہادری دیکھ کر فوجیوں کہ دل ٹہر گئے ،شیر کی پلٹے اور مناجیق کے پتھروں کی طرح تاتار کہ اوپر برس گئے ، شام سے پہلے جنگ کا فیصلہ ھوگیا ، تاتار کہ خاقان ، قازان کو جب اس شکست کی خبر پہنچی تو اس کی دماغ کی شریان پھٹ گئی اور وہ بھی واصل جھنم ھوا !!!

اس دور میں قلم و تقریر کہ مجاہد تو بہت ھیں ، نہ جانے ابن تیمیہ کہاں ھے !! جو قلم و تقریر کہ ساتھ تلوار بھی اٹھائے ھو اور آواز لگائے " مجھے جنگ میں اس جگہ لے چلو جہاں موت ناچ رھی ھو"
یہ دور اپنے ابن تیمیہ کی تلاش میں ھے !!


مجاہدین اسلام کو خراج 

جولائی 2013
کوئی نشان حیدر نہیں ، کوئی ستارہ جرآت نہیں ، کوئی تمغہ بسالت نہیں ، کوئی تمغہ شجاعت نہیں !!
مبارک ھو مجاہدوں ، اللہ نے ان دنیاوی اعزازت سے بھی تم کو بے نیاز کردیا ! اس وھن زدہ امت کہ ہاتھوں لے کر تم نے کرنا بھی کیا تھا ! جو کہ ہر رافضی کو ، ہر یزیدی کو ، ہر احمدی کو ، ہر پلیدی کو اس سے نوازتی رھی ھو ، جس کی نظر میں دختر مشرق بھی شہیدہ ھو اور کوئی ارجاء کا مارا ھوا مجاہد ملت ھو !
تمھارا مقام بلند ہے ، جن کو انعام اللہ نے دینا ھو ،جن کہ سینے پر تمغہ اللہ کہ رسول نے سجانا ھو ، جن کو جنت میں علی شیر خدا کہ ساتھ مقام ملنا ھو ، جو سابقون الاولون میں سے ھونے ھوں ، فرشتوں نے جن کی جانثاری پر تعجب کرنا ھو ان کو یہی زیبا دیتا ھے کہ ان کی لاشیں سمندر کا پیٹ بھریں ، یا گلیوں ،بازاروں میں بے گورو کفن پڑی رھیں ، کبھی ان سے خوشبو آئے تو کبھی ھزاروں ورطہ حیرت میں ڈوب جائیں کہ یہ خراب کیوں نہیں ھوتیں ،کبھی زمین میں زندہ دفنائے جاو تو کبھی جسم اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ھو کہ وہ گنے نہ جاسکیں !
یہی تمھارا انعام ھے ، تمھارا ایمان نشان حیدر ھے ، تمھاری جرآت راہ شجاعت ھے، تمھاری پامردی ہی بسالت ھے ، 
اے دنیا بھر کہ مجاہدوں ، اللہ کہ شیروں تمھیں دنیاوی تمغوں سے بے نیاز کردیا گیا ھے ،تمھاری بدولت ہی وہ صبح نمودار ھونی ھے جس کی ضیا پاشی سے امت منور ھونے والی ھے ،آج تمھارے لیے کوئی تمغہ نہیں ھے ،کل تمھارے نام پر تمغے ڈھالے جانے والے ھیں


اتوار، 3 نومبر، 2013

الحاد وطن پرستی کے نقاب میں !

الحاد کے گندے پاخانوں پر پرورش پانے والی ذھنیت، مسلمانوں کے مذبح خانوں پر خوش ہوتی سیکولر و لبرل سوچ اس بات پر امریکہ کا شکریہ ادا کررہی ہے کہ اس نے حکیم اللہ جیسے پاکستان دشمن سے اس کا پیچھا چھڑا دیا !! 
 یہ سوچ اس قدر گندی و خبیث ہے کہ اس کو باقاعدہ خطاب کرنا میرے نزدیک وقت کے ضیاع کے کچھ نہیں ہے لیکن یہ وطن پرستی کے پردے میں آرہی ہے اور بیچارے وطن پرستوں کو بھی رگڑے جارہی ہے جن پر اپنی آوٹ فٹ   کی وجہ سے اسلامی ہونے کا گمان گزرتا ہے !! کون نہیں جانتا کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں وطن پرستی کی ہر تعریف پر پورا اترتی ہیں ! کون نہیں جانتا کہ اس کے دانشوروں کی ایک کیثر تعداد وطن پرستی و اسلام پرستی کے مابین فرق نہیں کرسکتی اور ریاست کو اسلام کے مترادف سمجھتی ہے ! ان کی وطن پرستی پاکستان کو پیش آمدہ مسائل میں ضرب المثل رہی ہے ! ارے یہ تو وہ لوگ ہیں جو کہ پاکستان کو بچانے کے لیے افغانستان کو تباہ کرنے تک پر رضامند یا نیم رضامند تھے !! انڈیا کے ساتھ معرکے ہوں ، یا بنگلہ دیش میں البدر ، کشمیر کا محاذ ہو یا زلزلہ زدگان کی مدد ، پاکستان آرمی کی عزت بچانے کا مسئلہ ہو ، یا پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دینے کی کوشش، ان جماعتوں کا ان لوگوں کا رویہ ہر شبے سےبالاتر ہے ، آپ ان کے اسلام پر شبہ کرسکتے ہیں لیکن ان کی وطن پرستی پر شبہ نہیں کرسکتے !! 
 الحاد و سیکولرازم تو پہلے اس بات کا جواب دے کہ وہ وطن پرست کب سے ہوا !!! بے دینی کے انڈوں پر بیٹھی ہوئی ان مرغیوں میں وطن پرستی کا جذبہ کب سے پیدا ہوگیا ؟؟؟ ان کے بڑے بڑے رہنما تو اس ملک پر باہر سے صرف اور صرف حکومت کرنے آئے اور حکومت چھنتے ہی باہر کے ممالک میں جاکر اس فوج پر ، اس کے عوام پر ، اس کے وطنی دانشوروں پر بھونکتے رہے ہیں تاکہ مغربی ممالک سے ملنے والا راتب بند نہ ہوجائے !! ان کو اگر وطن سے بھی کوئی محبت دکھانے کا موقع ملا ہے تو اس کے پیچھے وہی حکمرانی کی ازلی خواہش ہے!! ان آوارہ کتوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ اگر اپنے آپ کو سارے کا سارا ننگا کرکہ بھی مغرب کے سامنے پیش کردیں تو پھر بھی وہ ان کو اپنے کسی ایک گاوں کی قیادت نہیں بخشنے والا !! کسی مغربی ملک کی حکمرانی تو دور کی بات ہے !!! ان کے چہروں پر چڑھے ہوئے کلمے کے نقاب دراصل ان کی یہاں پر حکمرانی کی خواہش کے لیے ہیں !!
 ہاں پاکستان کو لاحق خطرات کا احساس آج بھی کسی کو ہوا ہے تو وہ ان وطن پرستوں کو ہی ہوا ہے !! یہی سمجھے ہیں کہ حکیم اللہ کی شہادت سے کتنا بڑا نقصان ہونے والا ہے اور انتقام کے ایک طوفان کا کس کو سامنا کرنا پڑے گا!! وطن کی حفاظت پر کمر بستہ یہ نادان لوگ چاہے کچھ بھی ہوں وطن کو لاحق خطرات کا ادراک ان کو سب سے زیادہ ہے ! یہ صرف انڈیا کو روز اول سے اپنا دشمن جاننے والے دانشوران اس حقیقت کو جان گئے ہیں کہ اسلام کے ساتھ وطن بھی مشکل میں ہے !! یہ چاہے ابھی یہی کیوں نہ سمجھتے ہوں کہ اسی موجودہ نظام و طریق کار سے اس مشکل سے نکلا جاسکتا ہے لیکن ان کی نیت میں کوئی شک نہیں ہے !!
 ارے الحادیوں و سیکولروں ، حکیم اللہ کا غم تو امت منارہی ہے بلاامتیاز رنگ ، نسل و ملک کے !! زرا جاکر ٹوئٹر کا ہی جائزہ لے لو دنیا کی ہر قابل تذکرہ جہادی تنظیم اس کی تصویر اپنے سرورق پر لگا رہی ہے ! دنیا بھر میں ہزاروں لوگ اس سے متعلقہ تعزیتی بیان نشر کررہے ہیں ،اور یہ ملکی دانشور اگر اس ملک کے لیے اس واقعے کو ایک عظیم سانحہ قرار دے رہے ہیں اور پاکستان کے لیے نقصان عظیم تو تمہیں ان پر بھی  اعتراض ہے!!!
 حقیقت یہ ہے کہ جو کہ خدا شناس نہیں رہتا وہ وطن ، غیرت ،عزت ، مذہب ، سب سے لاتعلق ہوجاتا ہے !! وہ خود اپنا خدا بن جاتا ہے ۔ تم وطن پرست بھی نہیں ہو ۔ تمہارے سے کوئی خطاب کرنا بھی بے کار ہے! ہاں وطن پرستوں کو یہ ضرور کہوں گا کہ اس الحادی چہرے کے منہ سے نقاب اٹھا کر دیکھ لو رفض کا گھناونا چہرہ نظر آئے گا !!!.

ہفتہ، 2 نومبر، 2013

غلام و آقا !!


غلام و آقا!
 امریکہ نے اس غلام کو بڑے چاو سے خریدا تھا ، اس کے جوان و متناسب جسم نے پہلی ہی نظر میں اس کی توجہ کھینچ لی تھی ! یہ میرے کافی کام آئے گا ! امریکہ نے دل میں سوچا، اور اس کا یہ خیال غلط ثابت نہ ہوا ۔ لیکن خریدنے کے کچھ دن بعد ہی غلام اداس رہنے لگا اور اب  بیمار بھی پڑگیا تھا امریکہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ غلام ہوم سکسنس (Home Sickness) کا شکار ہوگیا ہے ! وہ بڑی ہمدردی سے اس کے ساتھ بیٹھا اور اس کے بالوں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر کہنے لگا بیٹا ! مجھے علم ہے کہ تمہیں گھر کی یاد ستار ہی ہے تم جنگلوں کے باسی ،آزاد فضاوں میں رہنے والے پنچھی ، ان شہروں کی زندگیاں تمہیں پسند نہیں ہیں اس لیے ہی تم بیمار ہوگئے ہو ۔ لیکن بیٹا ابھی تم جوان ہو اگر تم محنت سے کام کرو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پانچ سال بعد تمہیں آزاد کردوں گا!
 غلام کے چہرے پر بے یقینی تھی ! کیا آپ مجھے واقعی ہی آزاد کردیں گئیں ؟
 ہاں بیٹا میں تمہیں واقعی ہی آزاد کردوں گا ! امریکہ کا لہجہ حتمی تھا اور غلام ٹھیک ہوگیا!
 امریکہ کھیت کے کنارے پر کھڑا اس کو محنت کرتے دیکھتا ، اس کے جواں بازووں کی مچھلیاں جب ہل چلاتے ہوئے مچلتی تو امریکہ کا دل فخر سے بھر جاتا! غلام بوجھ اٹھا کر جب تن کر چلتا تو تو امریکہ کا سینہ بھی فخر سے تن جاتا ! غلام کافی محنت کررہا تھا غلام کے پاس وقت کے حساب کے لیے کوئی پیمانہ نہ تھا لیکن اس کو نظام شمسی کے حساب کا علم تھا وہ روز سورج کو مشرق سے مغرب کی طرف سفر کرتے دیکھتا اور ہر روز پتھر سے سخت زمین پر ایک لائن لگا لیتا ! ایک سال کے مکمل ہونے پر اس نے دل میں سوچا کہ "میری ایک انگلی" آزاد ہوگئی ہے ۔ دو سال مکمل ہونے ہوئے تو وہ اپنی دو انگلیوں کو بقیہ انگلیوں سے زیادہ ترجیح دینے لگا ۔ یہ حساب و کتاب غلام کے لیے روحانی مسرت کا ایک سامان تھا جس میں وہ کسی اور کو شریک نہ کرنا چاہتا تھا اپنے اردگرد کے آزاد انسانوں کی سرگرمیاں دیکھ کر وہ فورا اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگتا کہ کتنی انگلیاں رہ گئیں ہیں ! اور جلد ہی ان کے آزاد رہنے کی امید میں دوبارہ سرجھکا کر کام میں جت جاتا ۔ غلام کے اپنے اندر ایک دنیا آباد تھی ۔سورج ، لکیریں و انگلیاں ! سورج کا غروب ہونا اس کی روح میں اتر گیا ! اور پانچوں انگلیاں آزاد ہوگئی !
امریکہ غلام کی انتھک محنت کی بدولت خوشحال ہوچکا تھا ، غلام نے اس کے پاس آکر غلامی سے آزادی کا مطالبہ کیا ۔تاکہ وہ اپنے جنگل کو واپس جاسکے
 امریکہ نے بخوشی جانے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ سوال کیا تمہارے پاس کیا واپسی کا سفر اختیار کرنے کے لیے پیسے ہیں ؟
غلام نے زمین کی طرف سرجھکایا اس کے پاوں کی انگلیاں جیسے ایکدم اضطراب کے مارے سکڑنے لگیں ، نہیں میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ غلام کے لہجے میں حسرت ایک سوال لیے ہوئے تھی
 اچھا تمہارا گھر کس طرف ہے ؟ امریکہ نے دوسرا سوال داغا مغرب کی طرف ۔غلام نے ایک خوشی کے ساتھ جواب دیا
 اچھا ! پھر تو وہ کافی دور ہوگا اور وہاں تک جانے کےلیے کافی پیسوں کی ضرورت بھی ہوگی ۔ چلو اگر تم میرے لیے تین سال اور کام کرلو تو میں تمہیں وہاں تک جانے کے لیے معقول رقم دے دوں گا ۔ چلو تین سال نہیں تو دو سال ہی سہی ۔ چالاک امریکہ کالہجہ فاتحانہ تھا غلام زیرلب کچھ بڑبڑایا ، اس کے چہرے کا رنگ سیاہ سے کچھ اور سیاہ ہوگیا ۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے زور سے پاوں پٹخے اور کھیتوں میں کام کرنے واپس چلا گیا ۔
لیکن غلام اب کچھ کام چور ہوگیا تھا ، کام میں اس کا دل ویسے نہ لگتا جیسے کہ پہلے تھا ، سونے یا آرام کرنے کے بہانے تلاش کرتا رہتا اس کا جوان و طاقتور جسم ایک سستی کی سی کیفیت کا شکار نظر آتا۔ امریکہ نے اس بات پر اس کو ایک بار بری طرح پیٹا بھی گوکہ وہ اس بات پر زاروقطار رویا لیکن اس کی سستی کچھ کم ہوگئی ۔ وہ اب پہلے کی طرح حساب بھی نہیں کرتا تھا لیکن اپنے مضبوط ہاتھوں کو دیکھتا رہتا دوسال ،سہاگ رات کی طرح تیزی سے گزر گئے ۔امریکہ نے غلام کو معقول رقم دے دی تاکہ وہ مغرب کی طرف اپنے جنگل کے لیے سفر کرسکے ۔ کچھ عرصے بعد غلام تھکا ماندہ امریکہ کے پاس واپس آگیا وہ مغرب میں دور تک گیا تھا لیکن اس کو اپنا وطن نہیں ملا ۔ امریکہ نے اس کا حوصلہ بڑھایا اس کو کچھ اور رقم دی تاکہ وہ مشرق کی طرف سفر کرکے اپنے جنگل کو ڈھونڈ سکے ! غلام کو مشرق میں جنگل مل گیا، لیکن خود اپنے ہی گھر میں اس کا دل نہ لگا،جنگل کی ویرانی ،شہر کی رنگنیوں کا زور سے احساس دلوانے لگیں ،روز طلوع ہونے والا سورج جب مشرق سے نکلتا تو وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دیکھنا شروع کردیتا۔ اس کی ٹانگوں نے خود بخود ہی حرکت کی اور مغرب کی طرف عازم سفر ہوگئیں ! وہ امریکہ کے پاس واپس جارہا تھا  امریکہ کو اسے دیکھ کر کوئی حیرانی نہیں ہوئی ۔غلام نے اسے بتایا کہ جو جنگل اسے ملے وہ اسے اپنے نہیں لگے ۔ 
امریکہ نے بڑی توجہ سے اس کی کہانی سنی اور اسے پیار سے کہا ! دیکھو یہ میرا گھر تمہارا اپنا گھر ہے ۔ تم اس میں مزے سے رہو میں تمہارا خیال رکھوں گا لیکن اب کسی طرف بھی جانے کا نہ سوچنا! اور غلام نے سر جھکا دیا ! غلام نے محنت سے کام شروع کردیا ۔اس بار وہ ایسے کام کرتا جیسے کہ وہ اس کا اپنا کام ہو ، امریکہ اس کی صحت و خوراک کا خیال رکھتا تاکہ وہ طاقتور رہے اور اس کا کام کرسکے ۔ سستی دیکھنے پر اس پیٹتا بھی جس پر غلام روتا بھی نہیں ! امریکہ اسے اتوار کو چھٹی بھی دے دیتا تاکہ وہ قریبی پہاڑی پر جاکر مغرب میں غروب ہوتے سورج کو دیکھتا رہے ۔ غلام کی محنت سے امریکہ کی فصلیں اور اچھی ہونے لگیں اس نے ایک اور قطعہ زمین خریدا تاکہ اس پر بھی کھیتی باڑی ہوسکے امریکہ دن بدن امیر ہوتا چلا گیا کچھ عرصہ بعد اس نے غلام کے لیے ایک کنیز بھی خرید لی ! وقت دھیمی رفتار سے آگے بڑھتا چلا گیا ۔ امریکہ اب بوڑھا ہوگیا تھا لیکن اس کے گھر میں اب چھ غلام زادے تھے ایک سے بڑھ کر ایک کڑیل جوان ان کاغلام والد انہیں بتاتا کہ وقت اسی صورت گزرتا ہے جب کوئی کام میں مصروف رہے۔ اور جب (اسی انداز میں ) وقت گزر کر ماضی کا حصہ بن جائے تب ہی ہم لا فانی قسم کے جنگلوں کے اہل ہو سکتے ہیں۔ آرام والے دن وہ اپنے بیٹوں کو پہاڑی پر لے جاتا۔ انہیں غروب ہوتا سورج دکھاتا اور انہیں تمنا کرنے، آرزو کرنے اور (کسی چیز کا) انتظار کرنے کا ڈھنگ سکھاتا۔ امریکہ اب خاصا بوڑھا اور لاغر ہو گیا تھا۔ بوڑھا تو وہ پہلے ہی تھا مگر اب وہ زندگی کے دن گن کر گزار رہا تھا۔ اس کا بیٹا مضبوط و توانا تو نہیں بن سکا لیکن اسے اس بات سے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس کے گھر میں موجود غلام زادوں میں سے ہر ایک اتنا مضبوط اور لحیم تھا کہ وہ صرف ایک مکے کی ضرب سے کسی بھی شخص کو گرا سکتا تھا۔ وہ انتہائی طاقت ور تھے،ان کے پٹھے لوہے کی مانند تھے اور ان سب کے دانت شیر کی طرح تھے۔ اور ان کے پاس ابھی وقت بھی بہت تھا۔ وہ غلام زادے اپنی کلہاڑیاں چلاتے اور جنگلوں کے درخت کاٹتے رہے۔ 

 (جو ہنیری جنیسن کی کہانی سے ماخوذ)

منگل، 22 اکتوبر، 2013

بابو منکر کی میڈیائی دوکان !


بابو منکر کے پاس کچھ پیسے آئے تو کاروبار کرنی کی سوجھی ! سرمایہ زیادہ بھی نہ تھا اور نہ کم تھا دوستوں سے مشورے کے بعد طے ہوا کہ سپر مارکیٹ میں کریانے کی دوکان کھول لی جائے اور بنیادی ضروریات زندگی کو ابھی دوکان میں ترجیح دی جائے ! بابو منکر نے چند بنیادی ضروریات زندگی آٹا ، گھی ، ڈبے والا دودھ ، دالیں وغیرہ رکھ کر کام شروع کردیا، مارکیٹ میں کچھ عرصہ بیٹھے تو محسوس ہوا کہ لوگ موبائل کارڈز کا بھی پوچھنے آتے ہیں موبائل کارڈز کے سپلائرز سے بات کی اس نے بخوشی کارڈز رکھ دیئے کہ بیچ کر پیسے دیتے رہیں ! کچھ عرصے بعد بابو منکر کو علم ہوا کہ سامنے والی دوکان میں زیادہ بھیڑ کا سبب یہ ہے کہ اس نے بچوں کے پیمپرز بھی رکھے ہوئے ہیں ۔ بابو منکر فورا جا کر پیمپرز لے آئے ! ساتھ والی دوکان بھی کریانے ہی کی تھی لیکن وہ چیزیں ان سے مہنگے داموں بیچتا پھر بھی لوگ خریدتے ، بابو منکر کے منکر ذھن نے فورا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ ساتھ والی دوکان بہت لش پش ہے ! چاروں طرف شیشے لگے ہوئے ہیں اور سلیقے سے ریک بنے ہوئے ہیں بابو منکر کو ٹینشن ہوگئی فورا ادھر ادھر سے پکڑ کر پیسوں کا انتظام کیا اور اپنی دوکان کو لش پش کرلیا 

جمعہ، 11 اکتوبر، 2013

معرکہ کلیسا و الحاد !

باب 1

تثلیث۔

"باپ خدا ہے ، بیٹا خدا ہے ،روح القدس بھی خدا ہے ۔تین پر بھی وہ تین خدا نہیں ہیں بلکہ ایک خدا ہے "(برٹانیکا مطبوعہ 1960 جلد 22)
باپ ،بیٹااور روح القدس مل کر ایک خدائی وحدت تیار کرتے ہیں جو اپنی ماہیت اور حقیقت کے اعتبار سے ایک اور ناقابل تقسیم ہیں اس وجہ سے وہ تین نہیں ایک خدا ہیں (سینٹ آگسٹائن،On the Trinty)
دنیا کا سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ خدا تین میں ایک کیسے ہے یا ایک میں تین کیسے (نطشے)

اسکندریہ میں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس کے بہترین آداب و رہن وسہن اہل شہر کے لیے باعث کشش تھے۔ اس کا لیبیائی بدن ،احسن الکلامی ہر سننے والے اور دیکھنے والے کی توجہ کھینچ لیتں۔ وہ جھک کر بھی چلتا اس کی چال میں ایک بانکپن محسوس ہوتا۔ یہ آریوس تھا ،سینٹ لوسین کے مکتبے کا سب سے ہونہار شاگرد،اوراس کی تعلیم کا وارث۔لیکن اس نے نوزائدہ عیسائی ریاست میں ایک زلزلہ پیدا کردیا ، اسکندریہ کے بطریق اعظم الیگزنڈر کو عین اس وقت ٹوکا جب کہ وہ مسیح اور باپ کے ایک ہونے کا خطبہ دے رہا تھا۔
"دنیا میں ایک وہ بھی وقت تھا کہ جب بیٹا نہ تھا ،صرف باپ تھا ،باپ نے بیٹے کو تخلیق کیا ،پیدا نہیں کیا ، لیکن یہ تخلیق اس نے اپنے جوہر سے کی اور پھر اسے سے بیٹے سے سب کچھ خلق ہوا۔باپ ازل سے ہے بیٹا حادث ہے" ۔
آریوس کا دعوی چند لفظی و حتمی تھا،لیکن یہ عیسایئت کی پوری بنیاد ڈھانے کے مترادف تھا۔ آریوس اس عقیدے کا بانی نہ تھا پال آف سموسٹا اور لوسین مسیح کے خدا کا جسمانی بیٹا ہونے کا اور اس کے قدیم ہونے کا پہلے انکار کرچکے تھے ، لیکن آریوس نے اس انکار کو نیا رنگ و زوردار انداز دے دیا تھا،عیسائی دنیا جو کہ مسیح کو خدا میں سے خدا ماننے پر مصر تھی بھلا اس عقیدے کو کیوں برداشت کرسکتی تھی ! یہ عقیدہ مسیح کے خدا ہونے کا سیدھا سیدھا انکار تھا

منگل، 1 اکتوبر، 2013

جنسی جرائم، پابندی یا آزادی!

ہماری قوم بھی عجب ہے ہر جنون کو چھوڑ کر "جنسی جنون" کے پیچھے لگ جاتی ہے ۔ بچیوں و بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی حملے اس بات کے مصداق بھی ہیں کہ اس پر توجہ دی جائے۔ لیکن ہر بار کی طرح امید یہی رکھیے کہ کچھ عرصہ کےبحث و مباحثے کے بعد جس میں اسلامی ذھن و فکر رکھنے والے بندے مغربی مظاہر کو خوب رگڑیں گئیں اور فلموں ، گانوں ، فحش ویب سائٹسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کا رونا روئیں گئیں یا سکولوں و کالجوں میں مخلوط طریق تعلیم کو نشانہ بنائیں گئیں اور جوابا سیکولر و لبرل گدھے جن کا "روزگار" ان سے وابستہ ہے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اور سخت ترین قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے مساجد یا مدارس میں ہونے والے کسی ایسے ہی گھناونے جرم کو کو منظر عام پر لائیں گئیں ،یا اس بات کو دلیل بنائیں گئیں کہ جن ممالک میں اسلامی نظام نافذ ہے کیا وہاں کوئی ایسا جرم نہیں ہوتا ! اور ماضی قریب یا حال سے کوئی مثال بھی لے آئیں گئیں ۔ ان گدھوں کی اس ساری مسیحائی کا بنیادی مقصد و پیغام ایک ہی ہوگا کہ "بجائے پابندی لگانے کے آزادی دے دو"۔ مادر پدر آزادی ۔ سیکس کی تعلیم عام کردو ۔ناجائز تعلقات پر سے پابندی ہٹا لو ، گرل فرینڈ ، بوائے فرینڈ کے رشتے کو تقدس کا درجہ دے دو۔ یہ معاشرتی دباو کی وجہ سے اسے زبان سے ادا کریں یا نہ کریں ۔ ان کی ہر بات کا یہی مطلب ہوگا۔
اور "پابندی و آزادی" کے اس کھیل میں کچھ ہی عرصہ بعد میڈیا کے ہاتھ میں کوئی نیا کھیل آجائے گا جرائم اسی طرح ہوتے رہیں گئیں ، سنبلیں اسی طرح لٹتی رہی گئیں لیکن بس ان پر یہ شوروغوغا بند ہوجائے گا!۔