بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضور فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوز خیوں کے اعمال سروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھ آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے ،۔۔صحیح بخاری
گھوڑے جب زمین پر ٹاپیں مارتے تو گردوغبار کا ایک بادل سا اٹھتا ، نعروں کی گونج سے آسمان کا سینہ چیرا جارھا تھا ،سخت کوش ،تنومند تاتاری کمانیں کھینچے ھوئے تھے عربی گھوڑوں پر ان کہ کسے ھوئے بدن ایک عجب منظر پیش کرتے جس کو دیکھنے سے ہی دلوں پر ھیبت طاری ھوجاتی ،کثرت تعداد ، جنگی مہارت ، دلیری و شجاعت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا!
شامی و مصری مسلمان لشکریوں کہ دلوں میں ایک وحشت کا عالم تھا یہ لشکر جو کہ تاتار کہ جم غفیر کا سامنا کرنے کہ لیے بڑی مشکل سے جمع کیا گیا تھا اس کو اپنی جیت کا یقین نہ تھا ! مگر ایک ادھیڑ عمر نحیف سا شخص جس کہ چہرے پر ایک عجب سی چمک تھی بجلی کی کوندے کی طرح لپک رھا تھا !
اس پر نظر پڑتے ہی لشکریوں کا اضطراب جیسے دور سا ھوجاتا ! وہ ہر دستے کہ سامنے سے گھوڑا دوڑاتا ھوا گزرتا اور قسما و حلفا کہتا " کہ آج فتح تمھاری ھوگی"۔ اس قید یافتہ ،نحیف نراز شخص کہ وجود سے ایک عجب وقار جھلکتا ،اس کہ الفاظ میں عجب جادو تھا ، جنگ کہ لیے تیار ہر دستہ اس کہ قریب آکر درخواست کرتا اے شیخ اب تیمیہ آیئے ھمارے ساتھ کھڑے ھوں ، دیکھیں ہم جانثار ھیں آپ کی حفاظت بخوبی کریں گئیں ، مگر اس پر ایک عجب حال طاری تھا اتباع سنت کا امام کہتا نہیں ، رسول اللہ کی سنت ھے کہ بندہ اپنے قبیلے کہ ساتھ ہی کھڑا ھو !
اس کو ہر بات کی فکر تھی ، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ آج شقحب کہ میدان میں شکست کا مطلب ،مسلمانوں کی عظیم بربادی ھے ، وہ اس لشکر کا امیر نہ تھا ،مگر لشکر کا عسکری جزبہ اسی کا مرھون منت تھا ،رات کی خاموش تنہایئوں میں یہ اللہ کہ سامنے گڑگڑاتا رھا تھا کہ "مالک لاج رکھنا" ۔ یہ لشکر جو کہ تاتاریوں کی ھیبت سے لرزاں تھا اسی کی مساعی کی وجہ سے اکھٹا ھوا تھا
جنگ کا مرحلہ قریب آرھا تھا ، تاتاریوں کا لشکر صف بندی کرچکا تھا ، رمضان کا مہنیہ بھی کفر و اسلام کی اس جنگ کو دم سادھے دیکھ رھا تھا ، ابن تیمیہ نے اپنے گھوڑے کو لشکر کا چکر مکمل کرنے کہ لیے پھر ایڑ لگائی اس دفعہ ان کہ ہاتھ میں کجھوریں تھیں جن کو وہ اہل لشکر کہ سامنے کھاتے جاتے اور سنت یاد دلواتے جاتے کہ دشمن کہ مقابلے میں اگر کمزوری کا خدشہ ھے تو روزہ کھول لو ! آج اگر کسی بھی جسمانی کمزوری کی وجہ سے کفر غالب آگیا تو روزے کا فائدہ نہ ھوگا!
معرکہ شروع ھوگیا ،تاتاری پے در پے آگے بڑھے ،ان کہ پہلے حملے نے ہی مسلمانوں کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا ، بزدل پیٹھ دکھا کر بھاگے ، یہ حالت دیکھ کر مصر کہ حکمران ناصر بن قلاوون نے حکم دیا کہ اس کہ گھوڑے کو زنجیروں سے باندھ دیا جائے ۔ اور اللہ کہ ساتھ میدان جنگ میں موت تک لڑنے کا عہد کیا ۔امیر حسام الدین دیوانہ وار آگے بڑھے اور تاتاریوں کی صف چیرتے ھوئے شہید ھوگئے ،استاد دارالسلطان نے آٹھ امراءسمیت موت پر بیعت کی اور اور اپنا وعدہ پورا کردیا ،صلاح الدین بن ملک کی شان ہی نرالی تھی امیر ھونے کہ باوجود سپاہیوں سے بھی آگے جا کر لڑ رھے تھے !
شامی لشکر میں ابن تیمیہ کی شان ہی نرالی تھی ،یہ قلم و تقریر کا مجاہد آج تلوار ہاتھ میں تھامے شہادت کی تلاش میں سرگرداں تھا ! بار بار اپنے شامی ھمسازوں کو کہتا کہ مجھے اس جگہ لے چلو "جہاں پر موت ناچ رھی ھو" شامی جانباز اس کو دیکھ کر ھمت پکڑتے شاھیںوں کی طرح جھپٹتے اور چیتوں کی طرح دشمن کہ اجسام میں اپنی تلواریں پیوست کردیتے ،معلوم نہیں کہ ابن تیمیہ نے اس دن کیا نعرے لگائے ھوں گئیں مگر اس کا اندازہ ضرور ھے کہ جب یہ مرد حق نعرہ لگا کر حملہ آور ھوتا ھوگا تو ایک جم غفیر لیبیک کہتا ھوا شیر کی طرح حملہ کرتا ھوگا!
علماء و امرائے اسلام کی یہ بہادری دیکھ کر فوجیوں کہ دل ٹہر گئے ،شیر کی پلٹے اور مناجیق کے پتھروں کی طرح تاتار کہ اوپر برس گئے ، شام سے پہلے جنگ کا فیصلہ ھوگیا ، تاتار کہ خاقان ، قازان کو جب اس شکست کی خبر پہنچی تو اس کی دماغ کی شریان پھٹ گئی اور وہ بھی واصل جھنم ھوا !!!
اس دور میں قلم و تقریر کہ مجاہد تو بہت ھیں ، نہ جانے ابن تیمیہ کہاں ھے !! جو قلم و تقریر کہ ساتھ تلوار بھی اٹھائے ھو اور آواز لگائے " مجھے جنگ میں اس جگہ لے چلو جہاں موت ناچ رھی ھو"
یہ دور اپنے ابن تیمیہ کی تلاش میں ھے !!
اس دور کا ابن تیمیہ ؟
جولائی 2013گھوڑے جب زمین پر ٹاپیں مارتے تو گردوغبار کا ایک بادل سا اٹھتا ، نعروں کی گونج سے آسمان کا سینہ چیرا جارھا تھا ،سخت کوش ،تنومند تاتاری کمانیں کھینچے ھوئے تھے عربی گھوڑوں پر ان کہ کسے ھوئے بدن ایک عجب منظر پیش کرتے جس کو دیکھنے سے ہی دلوں پر ھیبت طاری ھوجاتی ،کثرت تعداد ، جنگی مہارت ، دلیری و شجاعت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا!
شامی و مصری مسلمان لشکریوں کہ دلوں میں ایک وحشت کا عالم تھا یہ لشکر جو کہ تاتار کہ جم غفیر کا سامنا کرنے کہ لیے بڑی مشکل سے جمع کیا گیا تھا اس کو اپنی جیت کا یقین نہ تھا ! مگر ایک ادھیڑ عمر نحیف سا شخص جس کہ چہرے پر ایک عجب سی چمک تھی بجلی کی کوندے کی طرح لپک رھا تھا !
اس پر نظر پڑتے ہی لشکریوں کا اضطراب جیسے دور سا ھوجاتا ! وہ ہر دستے کہ سامنے سے گھوڑا دوڑاتا ھوا گزرتا اور قسما و حلفا کہتا " کہ آج فتح تمھاری ھوگی"۔ اس قید یافتہ ،نحیف نراز شخص کہ وجود سے ایک عجب وقار جھلکتا ،اس کہ الفاظ میں عجب جادو تھا ، جنگ کہ لیے تیار ہر دستہ اس کہ قریب آکر درخواست کرتا اے شیخ اب تیمیہ آیئے ھمارے ساتھ کھڑے ھوں ، دیکھیں ہم جانثار ھیں آپ کی حفاظت بخوبی کریں گئیں ، مگر اس پر ایک عجب حال طاری تھا اتباع سنت کا امام کہتا نہیں ، رسول اللہ کی سنت ھے کہ بندہ اپنے قبیلے کہ ساتھ ہی کھڑا ھو !
اس کو ہر بات کی فکر تھی ، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ آج شقحب کہ میدان میں شکست کا مطلب ،مسلمانوں کی عظیم بربادی ھے ، وہ اس لشکر کا امیر نہ تھا ،مگر لشکر کا عسکری جزبہ اسی کا مرھون منت تھا ،رات کی خاموش تنہایئوں میں یہ اللہ کہ سامنے گڑگڑاتا رھا تھا کہ "مالک لاج رکھنا" ۔ یہ لشکر جو کہ تاتاریوں کی ھیبت سے لرزاں تھا اسی کی مساعی کی وجہ سے اکھٹا ھوا تھا
جنگ کا مرحلہ قریب آرھا تھا ، تاتاریوں کا لشکر صف بندی کرچکا تھا ، رمضان کا مہنیہ بھی کفر و اسلام کی اس جنگ کو دم سادھے دیکھ رھا تھا ، ابن تیمیہ نے اپنے گھوڑے کو لشکر کا چکر مکمل کرنے کہ لیے پھر ایڑ لگائی اس دفعہ ان کہ ہاتھ میں کجھوریں تھیں جن کو وہ اہل لشکر کہ سامنے کھاتے جاتے اور سنت یاد دلواتے جاتے کہ دشمن کہ مقابلے میں اگر کمزوری کا خدشہ ھے تو روزہ کھول لو ! آج اگر کسی بھی جسمانی کمزوری کی وجہ سے کفر غالب آگیا تو روزے کا فائدہ نہ ھوگا!
معرکہ شروع ھوگیا ،تاتاری پے در پے آگے بڑھے ،ان کہ پہلے حملے نے ہی مسلمانوں کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا ، بزدل پیٹھ دکھا کر بھاگے ، یہ حالت دیکھ کر مصر کہ حکمران ناصر بن قلاوون نے حکم دیا کہ اس کہ گھوڑے کو زنجیروں سے باندھ دیا جائے ۔ اور اللہ کہ ساتھ میدان جنگ میں موت تک لڑنے کا عہد کیا ۔امیر حسام الدین دیوانہ وار آگے بڑھے اور تاتاریوں کی صف چیرتے ھوئے شہید ھوگئے ،استاد دارالسلطان نے آٹھ امراءسمیت موت پر بیعت کی اور اور اپنا وعدہ پورا کردیا ،صلاح الدین بن ملک کی شان ہی نرالی تھی امیر ھونے کہ باوجود سپاہیوں سے بھی آگے جا کر لڑ رھے تھے !
شامی لشکر میں ابن تیمیہ کی شان ہی نرالی تھی ،یہ قلم و تقریر کا مجاہد آج تلوار ہاتھ میں تھامے شہادت کی تلاش میں سرگرداں تھا ! بار بار اپنے شامی ھمسازوں کو کہتا کہ مجھے اس جگہ لے چلو "جہاں پر موت ناچ رھی ھو" شامی جانباز اس کو دیکھ کر ھمت پکڑتے شاھیںوں کی طرح جھپٹتے اور چیتوں کی طرح دشمن کہ اجسام میں اپنی تلواریں پیوست کردیتے ،معلوم نہیں کہ ابن تیمیہ نے اس دن کیا نعرے لگائے ھوں گئیں مگر اس کا اندازہ ضرور ھے کہ جب یہ مرد حق نعرہ لگا کر حملہ آور ھوتا ھوگا تو ایک جم غفیر لیبیک کہتا ھوا شیر کی طرح حملہ کرتا ھوگا!
علماء و امرائے اسلام کی یہ بہادری دیکھ کر فوجیوں کہ دل ٹہر گئے ،شیر کی پلٹے اور مناجیق کے پتھروں کی طرح تاتار کہ اوپر برس گئے ، شام سے پہلے جنگ کا فیصلہ ھوگیا ، تاتار کہ خاقان ، قازان کو جب اس شکست کی خبر پہنچی تو اس کی دماغ کی شریان پھٹ گئی اور وہ بھی واصل جھنم ھوا !!!
اس دور میں قلم و تقریر کہ مجاہد تو بہت ھیں ، نہ جانے ابن تیمیہ کہاں ھے !! جو قلم و تقریر کہ ساتھ تلوار بھی اٹھائے ھو اور آواز لگائے " مجھے جنگ میں اس جگہ لے چلو جہاں موت ناچ رھی ھو"
یہ دور اپنے ابن تیمیہ کی تلاش میں ھے !!
مجاہدین اسلام کو خراج
جولائی 2013
کوئی نشان حیدر نہیں ، کوئی ستارہ جرآت نہیں ، کوئی تمغہ بسالت نہیں ، کوئی تمغہ شجاعت نہیں !!
مبارک ھو مجاہدوں ، اللہ نے ان دنیاوی اعزازت سے بھی تم کو بے نیاز کردیا ! اس وھن زدہ امت کہ ہاتھوں لے کر تم نے کرنا بھی کیا تھا ! جو کہ ہر رافضی کو ، ہر یزیدی کو ، ہر احمدی کو ، ہر پلیدی کو اس سے نوازتی رھی ھو ، جس کی نظر میں دختر مشرق بھی شہیدہ ھو اور کوئی ارجاء کا مارا ھوا مجاہد ملت ھو !
تمھارا مقام بلند ہے ، جن کو انعام اللہ نے دینا ھو ،جن کہ سینے پر تمغہ اللہ کہ رسول نے سجانا ھو ، جن کو جنت میں علی شیر خدا کہ ساتھ مقام ملنا ھو ، جو سابقون الاولون میں سے ھونے ھوں ، فرشتوں نے جن کی جانثاری پر تعجب کرنا ھو ان کو یہی زیبا دیتا ھے کہ ان کی لاشیں سمندر کا پیٹ بھریں ، یا گلیوں ،بازاروں میں بے گورو کفن پڑی رھیں ، کبھی ان سے خوشبو آئے تو کبھی ھزاروں ورطہ حیرت میں ڈوب جائیں کہ یہ خراب کیوں نہیں ھوتیں ،کبھی زمین میں زندہ دفنائے جاو تو کبھی جسم اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ھو کہ وہ گنے نہ جاسکیں !
یہی تمھارا انعام ھے ، تمھارا ایمان نشان حیدر ھے ، تمھاری جرآت راہ شجاعت ھے، تمھاری پامردی ہی بسالت ھے ،
اے دنیا بھر کہ مجاہدوں ، اللہ کہ شیروں تمھیں دنیاوی تمغوں سے بے نیاز کردیا گیا ھے ،تمھاری بدولت ہی وہ صبح نمودار ھونی ھے جس کی ضیا پاشی سے امت منور ھونے والی ھے ،آج تمھارے لیے کوئی تمغہ نہیں ھے ،کل تمھارے نام پر تمغے ڈھالے جانے والے ھیں



